پاکستان کے توانائی کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ ایک بین الاقوامی مشاورتی کمپنی ووڈ میکینزی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ کم از کم سال 2031 تک ترکمانستان سے گیس لینے کا کوئی حتمی فیصلہ نہ کرے۔ یہ مشورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں پہلے ہی درآمد شدہ ایل این جی (LNG) کی اضافی مقدار دستیاب ہے اور مقامی سطح پر گیس کی کھپت نمایاں طور پر گھٹ چکی ہے۔
وزارتِ توانائی کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق، یہ تجزیہ حکومت کے لیے ایک وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے جس پر پٹرولیم ڈویژن میں ہنگامی اجلاس اور مشاورت جاری ہے۔ حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ترکمانستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے کہ پاکستان اس منصوبے کو مؤخر کرنا چاہتا ہے یا پھر 13 ارب ڈالر کے تاپی گیس منصوبے (TAPI) سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کرلی جائے۔
یہ صورتحال صرف ملکی ضرورت کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ خطے کی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بھی پیچیدہ ہو گئی ہے۔ خاص طور پر بھارت کا غیر واضح رویہ پاکستان کے لیے بڑے سوال کھڑے کر رہا ہے۔ اگر بھارت نے باضابطہ طور پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کرلیا تو یہ منصوبہ تاپی کے بجائے ’’ٹاپ‘‘ (ترکمانستان، افغانستان، پاکستان) میں بدل جائے گا۔ اسلام آباد کے نزدیک ایسا ماڈل کسی طور پر اقتصادی طور پر قابلِ عمل نہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت کے بغیر پاکستان کو سالانہ 700 سے 800 ملین ڈالر کا وہ ریونیو بھی نہیں ملے گا جو ٹرانزٹ فیس کی مد میں حاصل ہونا تھا۔ اس کے برعکس، پاکستان کو افغانستان کو ہی گیس کے ٹرانزٹ کی مد میں سالانہ تقریباً 500 ملین ڈالر ادا کرنا پڑیں گے۔ جب اس رقم کو گیس کی بنیادی قیمت 7.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے ساتھ شامل کیا جائے تو مجموعی لاگت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ یہاں تک کہ مہنگی درآمدی ایل این جی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس طرح منصوبہ پاکستان کے لیے مالی طور پر نقصان دہ بن سکتا ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی کئی ایل این جی معاہدے اور انفراسٹرکچر موجود ہیں، جنہیں سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں تاپی جیسے مہنگے منصوبے پر مزید بوجھ ڈالنا موجودہ حالات میں دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔
