یورپی یونین کمیشن نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر اس کی ایڈورٹائزنگ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے الزام میں 2.95 بلین یورو کا بھاری جرمانہ عائد کردیا ہے۔ یہ فیصلہ گوگل کی کاروباری حکمت عملی اور ایڈورٹائزنگ پالیسی پر گہری نظر رکھنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی ایڈورٹائزنگ سروسز کو مارکیٹ پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے غلط طریقے سے استعمال کیا، جس سے دیگر کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں داخلہ مشکل ہوگیا تھا۔ اس فیصلے کو یورپی کمیشن کی جانب سے گوگل کے خلاف ایک اور بڑی پش گام قرار دیا جا رہا ہے، جو پہلے بھی ایسی سرگرمیوں پر جرمانہ عائد کر چکا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے گوگل پر عائد کیے جانے والے اس جرمانے سے امریکا اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد گوگل کے کاروباری طریقوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی مارکیٹ میں کاروباری انصاف کو یقینی بنانا ہے۔
گوگل کی جانب سے اس فیصلے پر فوری ردعمل سامنے آیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ اس جرمانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ اس نے تمام قوانین اور اصولوں کی مکمل تعمیل کی ہے۔ گوگل کا مزید کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرے گا۔
یورپی یونین کی سخت پالیسی کے تحت بڑے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو اپنی مارکیٹ کی پوزیشن کا غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس فیصلے کے بعد، گوگل کے لیے نہ صرف یورپی مارکیٹ میں کاروبار چلانا مشکل ہو سکتا ہے بلکہ یہ دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ بن سکتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔
