ایشیا کپ 2025 کے آغاز سے قبل ہی دبئی اور شارجہ کی فضاؤں میں ایک غیر معمولی کشیدگی محسوس کی جا رہی ہے۔ عموماً ایسے بڑے ٹورنامنٹس میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ کھلاڑی ایک دوسرے سے کم از کم رسمی سطح پر خیرسگالی کا مظاہرہ کریں گے، مگر اس بار منظر نامہ بالکل الٹ دکھائی دیا۔ 6 ستمبر کی شام دبئی کی آئی سی سی اکیڈمی میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک ہی گراؤنڈ میں الگ الگ سمتوں پر تین گھنٹے تک نیٹ پریکٹس کرتی رہیں۔
یہ موقع اس لیے بھی اہم تھا کہ سب دیکھنا چاہتے تھے کہ دونوں ملکوں کے کھلاڑی، جو برسوں سے کرکٹ کے ذریعے عوامی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، میدان سے باہر ایک دوسرے کے ساتھ رویہ کیسے اپناتے ہیں۔ تاہم حیرت انگیز طور پر نہ صرف مصافحہ سے گریز کیا گیا بلکہ کھلاڑیوں نے نظریں تک ملانے سے اجتناب کیا۔ یہ منظر اس بات کا واضح اظہار تھا کہ موجودہ حالات معمول کے نہیں رہے۔
ماضی کے تجربات کچھ اور تھے۔ اگرچہ پاک بھارت میچوں میں تماشائیوں کی جانب سے کشیدگی اکثر اپنی انتہا کو پہنچ جاتی تھی، مگر میدان کے باہر کھلاڑیوں کے تعلقات قدرے دوستانہ ہی رہے۔ کئی بار یہ دیکھا گیا کہ میچ ختم ہونے کے بعد کھلاڑی خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے سے بات کرتے، ہنسی مذاق کرتے یا کھانے پر ساتھ بیٹھتے۔ لیکن مئی 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی نے صورتِ حال کو یکسر بدل دیا ہے۔ عارضی جنگی کیفیت اور سرحدی جھڑپوں نے نہ صرف سیاسی محاذ پر ماحول کو سرد کر دیا بلکہ اس کے اثرات کھیلوں تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ اب یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میدان کے باہر کا دوستانہ ماحول ماضی کی بات بن چکا ہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر اپنا مؤقف صاف رکھا ہے۔ بورڈ کے مطابق ایشیا کپ جیسے کثیر ملکی ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ حکومت کی پالیسی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے منافی ہوگا۔ تاہم بھارت کی سرکاری ہدایات یہی ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی صورت میں دوطرفہ سیریز یا براہِ راست مقابلے نہیں کھیلے جائیں گے۔ اس پالیسی نے کھلاڑیوں کے درمیان فاصلہ اور سرد مہری کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یوں ایک طرف بھارت ٹیم کی ایشیا کپ میں شمولیت یقینی ہے مگر دوسری طرف یہ بھی طے ہے کہ تعلقات کی برف پگھلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
14 ستمبر کو دبئی میں پاک بھارت میچ ایشیا کپ کا سب سے بڑا مقابلہ سمجھا جا رہا ہے۔ شائقین کی نظریں اس دن پر جمی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میچ میں محض بیٹ اور بال کی ٹکر نہیں ہوگی بلکہ یہ مقابلہ سیاسی ماحول اور نفسیاتی دباؤ کی عکاسی بھی کرے گا۔ اس بار یہ مقابلہ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی تازہ جھلک بھی پیش کرے گا۔
کرکٹ کے اسٹیڈیم میں ہونے والی خاموشیاں، مصافحے سے انکار اور کھلاڑیوں کے رویے دنیا بھر کے میڈیا کے لیے ایک بڑا اشارہ ہوں گے کہ کرکٹ صرف کھیل نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کے آئینے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
