مسلم لیگ (ن) کےسینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے خار میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کے دوران ایک ایسا قدم اٹھایا جسے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی ملی۔ سیلاب زدگان کے ساتھ ملاقات کے بعد جب متاثرہ خاندانوں میں مالی امداد کے چیک تقسیم کرنے کا وقت آیا تو سعد رفیق نے میڈیا نمائندوں اور فوٹوگرافرز کو کیمرے بند کرنے کی ہدایت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ چیک کی تقسیم دکھاوا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ متاثرین کی عزتِ نفس کا معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ متاثرین کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھ کر نہ صرف گفتگو کر رہے ہیں بلکہ دکھ درد بھی بانٹ رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے نعرہ بلند کیا،پاکستان زندہ باد، خیبر پختونخوا زندہ باد!
لیگی رہنما کے اس فیصلے نے سوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لیے اور لوگوں نے اس عمل کو ریاستی ذمہ داری کا حقیقی مظاہرہ قرار دیا۔ سینئر صحافی اظہر عباس نے اپنے ردعمل میں ٹویٹ کیا کہ یہی وہ طریقہ ہے جس طرح امداد تقسیم ہونی چاہیے، سعد رفیق کو شاباش۔ اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے بھی ان کے عمل کو جراتمندانہ اور قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ ان کی عزت میں مزید اضافہ کرے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان میں اکثر امدادی سامان یا چیک تقسیم کرنے کے وقت فوٹو سیشن کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر سعد رفیق کا یہ رویہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے جس نے عوامی دلوں میں ان کی قدر و منزلت کو بڑھا دیا۔ یہ عمل نہ صرف ان کی سادگی بلکہ متاثرین کے احترام کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
عوامی ردعمل میں بھی کئی صارفین نے لکھا کہ اگر یہی روایت دیگر سیاستدان بھی اپنالیں تو امدادی کام زیادہ باعزت اور متاثرین کے لیے خوشگوار ثابت ہو سکتے ہیں۔ کچھ صارفین نے یہاں تک کہا کہ یہی اصل سیاست ہے، انسانیت کے احترام کے ساتھ۔
