اسلام آباد: امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (USSΜ) نے پاکستان میں اہم معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس موقع پر امریکی سفارتخانے کے قائم مقام ڈپٹی چیف آف مشن زیک ہارکن رائیڈر بھی موجود تھے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ یہ اقدام امریکہ-پاکستان تعلقات کی مضبوطی اور باہمی اقتصادی مفادات کی ایک اور مثال ہے، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی کمپنیاں مستقبل میں پاکستان میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کریں گی۔
اس معاہدے کے تحت یو ایس ایس ایم پاکستان میں جدید پالی میٹلک ریفائنری قائم کرے گی، اور ابتدائی طور پر تانبہ، سونا اور ٹنگسٹن کی برآمد شروع ہوگی۔ معاہدے کو دفاع، ایرو اسپیس اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے بھی اہم قرار دیا گیا ہے، اور اس سرمایہ کاری سے نئی ملازمتیں اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس سے قبل، امریکی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار اور وفاقی وزراء بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں مائننگ آپریشنز بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا اور ملک کے وسیع معدنی ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس معاہدے کے ساتھ ساتھ موٹہ اینگل اور نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) کے درمیان بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت موٹہ اینگل پاکستان میں لازمی لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی۔
یہ معاہدے پاکستان کی عالمی سرمایہ کاری لانے کی کاوشوں میں اہم سنگ میل کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، اور امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں۔
اس موقع پر امریکی نمائندوں نے پاکستان کے معدنیات کے شعبے کی وسیع استعداد کو سراہا اور مستقبل میں باہمی اقتصادی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا۔
