یورپ کی فضائی دنیا ایک بار پھر ہڑتالوں کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ نیدرلینڈز کی قومی فضائی کمپنی کے ایل ایم، جو کہ ایئر فرانس–کے ایل ایم گروپ کا حصہ ہے، نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کے روز 100 پروازیں منسوخ کرے گی۔ اس فیصلے کی وجہ گراؤنڈ اسٹاف کی جانب سے صبح کے وقت دو گھنٹے کی ہڑتال ہے۔ اس اچانک اقدام سے تقریباً 27 ہزار مسافر براہِ راست متاثر ہوں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چند دن پہلے ہی کے ایل ایم نے کچھ مزدور یونینز کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا تھا تاکہ اجتماعی معاہدے کے مسائل حل ہو سکیں، مگر دو بڑی یونینز اس ڈیل میں شامل نہ ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہڑتال کا سلسلہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بدھ کی ہڑتال کے بعد ایک اور بڑا احتجاج 17 ستمبر کو چار گھنٹے کے لیے طے کیا گیا ہے، جو اسی طرح صبح کے وقت ہوگا۔
یورپی فضائی شعبہ اس سال پہلے ہی کئی بار مزدور تنازعات اور ہڑتالوں کے سبب مشکلات سے دوچار ہو چکا ہے۔ صرف جولائی میں ہی کم لاگت ایئرلائن رایان ایئر کو درجنوں پروازیں منسوخ کرنا پڑیں جب فرانس میں فضائی ٹریفک کنٹرولرز نے مسلسل ہڑتالیں کیں۔ ان واقعات نے پورے براعظم میں پروازوں کے نظام کو متاثر کیا اور ہزاروں مسافروں کو غیر متوقع تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسے اقدامات کا اثر صرف متاثرہ پروازوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورے شیڈول پر پڑتا ہے۔ ایک دن کی ہڑتال کئی دنوں تک تاخیر اور پروازوں کی ری شیڈولنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ صورتحال ائرپورٹ کے عملے، ایئرلائن مینجمنٹ اور سب سے بڑھ کر مسافروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ہڑتال کے پس منظر میں بنیادی مسئلہ اجتماعی معاہدے (Collective Agreement) پر اختلاف ہے، جس میں تنخواہوں، کام کے اوقات، اور عملے کے حقوق شامل ہیں۔ کے ایل ایم کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتی ہے، مگر بعض یونینز اپنے مطالبات منوانے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آ رہی ہے جب یورپی فضائی صنعت ابھی بھی کورونا وبا کے بعد کے بحران سے مکمل طور پر نہیں نکلی۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، افرادی قوت کی کمی اور مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایئرلائنز پر پہلے ہی دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اب ان ہڑتالوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مزدور تنظیموں اور ایئرلائنز کے درمیان فوری اور مؤثر مذاکرات نہ ہوئے تو آنے والے دنوں میں پروازوں کی تاخیر اور منسوخیوں کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے یورپی فضائی صنعت کی ساکھ اور مسافروں کا اعتماد دونوں متاثر ہوں گے۔
