گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایک نہایت اہم اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اب روایتی نقد رقوم کے بجائے کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی جبکہ کمیٹی میں مختلف ارکان اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
سینیٹر محسن عزیز نے بتایا کہ مجرم اب کیش کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ ورچوئل کرنسیوں میں تاوان وصول کرنے لگے ہیں۔ اس موقع پر اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے وضاحت کی کہ کرپٹو کرنسی پاکستان میں مکمل طور پر غیرقانونی نہیں ہے، لیکن اس کا استعمال ایک ’’گرے ایریا‘‘ یا غیر واضح قانونی دائرے میں آتا ہے۔
مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ جب کرپٹو کا لین دین عموماً حوالہ اور ہنڈی جیسے غیر قانونی ذرائع سے ہوتا ہے تو پھر اسے ’’گرے‘‘ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا بھر میں پاکستانی عوام کرپٹو سرمایہ کاری کے حوالے سے آٹھویں نمبر پر ہیں، اس لیے ’’ورچوئل ایسٹ بل 2025‘‘ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کہا کہ اب تک پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے لیے کوئی باقاعدہ ضابطہ یا قانون موجود نہیں تھا، اسی لیے حکومت یہ بل لائی ہے تاکہ لین دین میں شفافیت لائی جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ قانون منی لانڈرنگ کے خطرات کا بھی جائزہ لے گا اور ان کے سدباب کے لیے طریقہ کار وضع کرے گا۔
وزارتِ قانون کے کنسلٹنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ اس بل کے تحت ایک خود مختار بورڈ قائم کیا جائے گا جس میں ٹیکنالوجی، مالیاتی امور اور ریگولیٹری معاملات کے ماہرین شامل ہوں گے تاکہ تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔
اسی اجلاس میں سینیٹر دلاور خان نے ٹیکس پالیسی پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں مختلف قسم کے ٹیکس جیسے سیلز ٹیکس اور سپر ٹیکس کاروبار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پورے ملک میں محض 5 فیصد یکساں ٹیکس عائد کیا جائے تو آمدنی میں 40 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے خطرناک پالیسی تجربات سے بچنا ہوگا۔
کسٹمز کے کردار پر بھی بحث ہوئی۔ سلیم مانڈوی والا نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کو کسٹمز کے ماتحت کرنے کی تجویز کی مخالفت کی، جبکہ سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ دونوں اداروں کا ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔
اس موقع پر سینیٹر انوشہ رحمان نے بھی سخت اعتراضات کیے اور کہا کہ کسٹمز اہلکار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تاجروں کو سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں کوئٹہ سے تفتان تک 23 چیک پوسٹس کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاجروں کے لیے مشکلات اور تاخیر کا باعث بنتی ہیں۔
کمیٹی کے اجلاس میں بیک وقت کئی اہم نکات پر بات ہوئی ایک طرف کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے جڑے خطرات سامنے لائے گئے، دوسری طرف ٹیکس اصلاحات اور کسٹمز کے کردار پر اختلافی آراء بھی سننے کو ملیں۔ یہ اجلاس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کو مالیاتی شفافیت، ٹیکس اصلاحات اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام اور کاروباری طبقہ دونوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
