دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ 2025 کے چھٹے میچ میں بھارت نے پاکستان کو با آسانی 7 وکٹوں سے شکست دے دی، اور یوں گرین شرٹس کی ناقص کارکردگی ایک بار پھر سب کے سامنے بے نقاب ہوگئی۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 127 رنز بنائے، جو بھارت نے محض 16 اوورز اور 5 گیندوں میں مکمل کر کے ایک مرتبہ پھر اپنی برتری ثابت کر دی۔
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ ابتدا ہی میں الٹا پڑ گیا۔ ٹیم کا آغاز بدترین رہاصرف 6 کے مجموعی اسکور پر دونوں اوپنرز پویلین واپس لوٹ چکے تھے۔ صائم ایوب صفر پر ہاردک پانڈیا کی گیند پر آؤٹ ہوئے جبکہ محمد حارث 3 رنز بنا کر جسپریت بمراہ کا شکار بنے۔ فخر زمان17اور صاحبزادہ فرحان 40 نے کچھ مزاحمت کی لیکن مڈل آرڈر مکمل طور پر فلاپ رہا۔ 13ویں اوور تک اسکور 64/6 ہو چکا تھا۔
کچھ دیر کے لیے شاہین شاہ آفریدی نے چھکوں کی بارش کر کے شائقین کے دل بہلائے،انہوں نے صرف 16 گیندوں پر 33 رنز بنائے جس میں چار شاندار چھکے شامل تھے۔ فہیم اشرف 11اور صفیان مقیم10نے بھی آخری اوورز میں کچھ ہاتھ دکھایا، مگر ٹیم 20 اوورز میں صرف 127/9 تک محدود رہی۔ بھارت کی جانب سے کلدیپ یادیو نے 18 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ بمراہ اور اکشر پٹیل نے دو دو شکار کیے۔
ہدف کے تعاقب میں بھارت نے جارحانہ انداز اپنایا، گو کہ اوپنر شبمن گل صرف 1 رن بنا کر جلد آؤٹ ہو گئے، مگر ابھیشیک شرما نے پاکستانی باؤلنگ کا بھرکس نکالتے ہوئے صرف 13 گیندوں پر 31 رنز بنا ڈالے جن میں 4 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ وہ صائم ایوب کا شکار بنے، جو واحد پاکستانی باؤلر تھے جنہوں نے کچھ مزاحمت کی۔
اس کے بعد تلک ورما 31 اور کپتان سوریا کمار یادو نے 56 رنز کی شراکت کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔ سوریا کمار نے انتہائی ذمہ داری سے اننگز کھیلی اور ناقابلِ شکست 47 رنز بنائے، جس میں 5 چوکے اور 1 چھکا شامل تھا۔
آخر کار بھارت نے 129 رنز کا ہدف صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 16ویں اوور کی پانچویں گیند پر حاصل کر لیا، اور پاکستان کو نہ صرف ہرا دیا بلکہ کئی خامیوں کو بے نقاب بھی کر دیا۔
ایک بار پھر پاکستان کی ٹیم نے اہم مقابلے میں غیر ذمہ داری، کمزور حکمتِ عملی، اور ناتجربہ کاری کا مظاہرہ کیا۔ بیٹنگ لائن کا ابتدائی بکھراؤ اور مڈل آرڈر کی مسلسل ناکامی ٹیم مینجمنٹ پر کئی سوالات اٹھا گئی ہے۔ فخر زمان اور فرحان جیسے کھلاڑیوں پر انحصار کب تک؟ شاہین کی بیٹنگ کا سہارا لینا اس بات کا غماز ہے کہ اوپر کے آرڈر پر مکمل اعتماد ختم ہو چکا ہے۔
باؤلنگ میں بھی صرف صائم ایوب کی کارکردگی کو سراہا جا سکتا ہے، جنہوں نے تینوں وکٹیں لیں، جبکہ دیگر باؤلرز بالکل بے اثر نظر آئے۔
ماہرین کرکٹ کےمطابق بھارت کے خلاف یہ شکست نہ صرف فنی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی پاکستانی ٹیم کے ناپختہ ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ایشیا کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں ہر میچ اہم ہوتا ہے، اور بھارت کے خلاف شکست ہمیشہ ایک نفسیاتی جھٹکا دیتی ہے۔ لیکن جب شکست کی نوعیت ایسی ہوجہاں ٹیم لڑنے کی صلاحیت ہی نہ دکھائے تو یہ محض ہار نہیں بلکہ سیلیکشن پالیسی، کوچنگ اسٹاف، اور اسٹرٹیجی پر فردِ جرم ہے
