لاہور میں دریائے راوی کی زمین پر مبینہ طور پر قائم کی گئی ایک غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین کو بڑی مالی ریلیف مل گئی۔ اینٹی کرپشن پنجاب کی کوششوں سے متاثرہ شہریوں کو فی کس 1 کروڑ 96 لاکھ روپے واپس کر دیے گئے ہیں، جس میں 50 فیصد رقم نقد اور 50 فیصد چیک کی صورت میں ادا کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک پر الزام ہے کہ اُس نے دریائے راوی کے اندر موجود تقریباً 12 ہزار کنال زمین کو قانونی ظاہر کر کے شہریوں کو دھوکے سے بیچ دیا۔ متاثرین نے کئی سالوں کی جمع پونجی لگا کر یہاں گھر بنائے، مگر حالیہ سیلاب میں یہ تمام گھر پانی میں ڈوب گئے۔
اینٹی کرپشن ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد 400 سے زائد ہے، جنہوں نے سوسائٹی کے مالک کے خلاف تحریری شکایات جمع کرائیں۔ تحقیقاتی اداروں نے معاملے کی چھان بین کے بعد چالان تیار کر لیا ہے، جبکہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد حکومت نے روڈا (راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی) اور ایل ڈی اے (لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی) سے دریائے راوی کے اطراف قائم تمام غیر قانونی سوسائٹیوں کا تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ آئندہ ایسے دھوکوں سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے فوری ایکشن اور رقوم کی واپسی نے ان کی اُمیدوں کو پھر سے زندہ کیا ہے، مگر وہ چاہتے ہیں کہ جعلسازوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی اور شہری زندگی بھر کی کمائی یوں نہ گنوائے۔
