غزہ کی بربادی سے جان بچا کر مصر میں پناہ لینے والی ایک ننھی فلسطینی بچی کی زندگی ایک اور المیے کا شکار ہو گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ کم سن بچی، جس کا نام جوری بتایا گیا ہے، مصر کے ایک شہر میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہ رہی تھی جب تقریباً دو ماہ قبل ایک کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئی۔ ابتدائی علاج میں لاپرواہی اور بروقت ویکسین نہ ملنے کے سبب جوری کی حالت بگڑتی چلی گئی اور آخرکار وہ جانبر نہ ہو سکی۔ اسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کو ریبیز لاحق ہو گیا تھا، جس نے اس کے اعصاب اور دورانِ خون کو شدید متاثر کیا، نتیجتاً اس کا دل دھڑکنا بند ہو گیا۔
یہ بچی گزشتہ سال اپنے اہل خانہ کے ساتھ جنگ زدہ غزہ سے ہجرت کر کے مصر پہنچی تھی۔ اطلاعات کے مطابق والدہ علاج کے لیے اپنے ایک بیٹے کے ساتھ بیرونِ ملک روانہ ہو گئی تھیں، جب کہ جوری اپنی بہنوں کے ساتھ مصر ہی میں مقیم رہی۔ حادثے کے بعد مقامی پولیس اور صوبہ الجیزہ کے حکام فوری طور پر متحرک ہوئے، لاش کو اسپتال کے سردخانے منتقل کیا گیا اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
یہ افسوس ناک واقعہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ کئی افراد نے والدین اور سرپرستوں کی کوتاہی پر سوال اٹھائے کہ کتے کے کاٹنے کے فوری بعد اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا کیوں ممکن نہ بنایا گیا، حالانکہ یہ ویکسین سرکاری اسپتالوں میں بلامعاوضہ دستیاب تھی۔ کچھ صارفین نے مصر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی اس سانحے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے پر فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں نے یہ مؤقف اپنایا کہ آوارہ کتوں کو ختم کرنا اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق بہتر طریقہ یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن اور نس بندی کی مہمات چلائی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور انسانی و حیوانی زندگی دونوں کو تحفظ دیا جا سکے۔
جنگ کی ہولناکیوں سے نکلنے والی یہ معصوم جان ایک نئے المیے کا شکار ہو کر نہ صرف اپنے خاندان بلکہ مصری عوام کے دلوں پر بھی گہرا صدمہ چھوڑ گئی۔
