افغانستان میں طالبان حکومت نے انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے جو سخت اقدامات شروع کیے ہیں، ان کی وسعت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور اب یہ سلسلہ کئی صوبوں میں پھیل چکا ہے۔ یہ کریک ڈاؤن بظاہر اس جواز کے تحت کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ نے معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچایا ہے، نوجوان نسل پر منفی اثرات ڈال رہا ہے اور غیر اخلاقی مواد کو فروغ دے رہا ہے۔ لیکن زمینی حقائق اور ماہرین کی رائے اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں عام شہریوں کی معلومات تک رسائی محدود ہو رہی ہے اور کاروباری طبقے سمیت تعلیمی سرگرمیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔
طالبان قیادت نے حال ہی میں ایک سروے کرایا جس میں عوامی تاثرات جمع کیے گئے۔ اس سروے کے نتائج کو بنیاد بنا کر یہ مؤقف اپنایا گیا کہ انٹرنیٹ کے "بے جا استعمال” کو قابو میں لانے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی اعلان کے بعد جلال آباد، بغلان، بدخشان، ننگرہار، تہار اور قندوز جیسے صوبوں میں انٹرنیٹ سروسز محدود یا مکمل طور پر معطل کر دی گئیں۔ صوبہ تہار کے ترجمان صدیق اللہ قریشی نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ننگرہار اگرچہ ایک نمایاں ثقافتی مرکز ہے لیکن اس پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ اطلاعات یہ بھی سامنے آئی ہیں کہ قندوز میں قائم سرکاری دفاتر کے ایک واٹس ایپ گروپ نے اندرونی طور پر اس کریک ڈاؤن کی تفصیلات شیئر کی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فیصلے کا اطلاق تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ طالبان حکام ایک طرف تو اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ کی ضرورت سے انکار نہیں کرتے اور عوام کی سہولت کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں، مگر دوسری طرف عملی صورتحال یہ ہے کہ گھروں اور سرکاری و نجی اداروں میں ‘وائی فائی’ کنکشن بند کیے جا رہے ہیں۔ صرف موبائل فون ڈیٹا کی سہولت جزوی طور پر دستیاب ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت انٹرنیٹ کے مکمل بلیک آؤٹ سے فی الحال گریز کر رہی ہے لیکن اس کے دائرہ کار کو سخت کنٹرول کے تحت رکھنا چاہتی ہے۔
اگست 2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا کریک ڈاؤن ہے۔ اس سے پہلے انٹرنیٹ پر ایسی وسیع پیمانے پر قدغنیں نہیں لگائی گئی تھیں، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت داخلی سطح پر اطلاعات اور اظہار کی آزادی کو مزید محدود کرنے کے لیے نئی پالیسی بنا رہی ہے۔
آج صوبہ بلخ سے اس کریک ڈاؤن کی باضابطہ تصدیق ہوئی تھی اور اس کے فوراً بعد مشرقی اور شمالی افغانستان کے کئی حصوں سے اسی نوعیت کی خبریں آنے لگیں۔ یہ صورتحال تیزی سے پورے ملک میں پھیلنے کا عندیہ دے رہی ہے۔
میڈیا سے وابستہ تنظیموں اور انٹرنیٹ سے منسلک کاروباری اداروں نے ان اقدامات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے لاکھوں افغان شہری اطلاعات کی بروقت فراہمی سے محروم ہو گئے ہیں، کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور تعلیمی شعبے میں طلبہ و اساتذہ کی آن لائن سرگرمیاں رُک گئی ہیں۔ ان تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت کو لوگوں سے محروم نہ کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کا اصل مقصد سماجی رویوں کو قابو میں لانا اور اپنے بیانیے کے خلاف پھیلنے والی خبروں کو روکنا ہے۔ افغانستان کی تاریخ میں جب بھی اطلاعات پر پابندی لگائی گئی، اس کا نتیجہ عوامی اضطراب اور تنہائی کی شکل میں نکلا۔ اس بار بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ پر عائد یہ قدغنیں افغان عوام کو عالمی دنیا سے مزید کاٹ دیں گی اور ملک میں پہلے سے موجود تنہائی اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
