لبنان کی مشرقی سرزمین پر ایک بڑی کارروائی میں ملکی فوج نے کیپٹاگون کی غیر قانونی تجارت کو نشانہ بنایا اور اس دوران ایک ایسا ذخیرہ پکڑا گیا جسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی ضبطی قرار دیا جا رہا ہے۔ فوج کے مطابق بعلبک کے قریب بودائی کے علاقے میں کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں لگ بھگ چھ کروڑ چالیس لاکھ نشہ آور گولیاں برآمد ہوئیں۔
یہ کارروائی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی ایک ٹیم اور فوجی یونٹ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی، جس میں کافی عرصے سے سرگرم اسمگلنگ گروہوں پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ ان گروہوں کی نقل و حرکت پر باریک بینی سے نگرانی کے بعد اس خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا جہاں نہ صرف تیار شدہ گولیاں موجود تھیں بلکہ ان کی تیاری کے لیے درکار بھاری مقدار میں خام مال بھی پکڑا گیا۔
چھاپے کے دوران فوج نے نشہ آور گولیوں کے ساتھ ساتھ انتیس نہیں بلکہ اناسی ایسے بڑے بیرل بھی ضبط کیے جن میں کیمیائی مواد بھرا ہوا تھا اور جو خاص طور پر کیپٹاگون کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مشینیں اور دیگر آلات بھی ملے جو ظاہر کرتے ہیں کہ اس مرکز کو ایک باقاعدہ منشیات کی فیکٹری کی صورت دی گئی تھی۔ فوج کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ کارروائی لبنان کی تاریخ کی چند سب سے بڑی اور سب سے اہم ضبطیوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ ابھی اس معاملے میں ملوث تمام عناصر کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، لیکن حکام کے مطابق تعاقب جاری ہے اور جلد مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔
لبنان کے بعلبک اور بقاع کے علاقے طویل عرصے سے منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے لیے بدنام رہے ہیں۔ یہ خطہ شام کی سرحد سے قریب واقع ہے، اور کئی برسوں سے یہاں غیر قانونی تجارت پھلتی پھولتی رہی ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کے کمزور ہونے سے قبل شام اور لبنان کے اس سرحدی علاقے میں کیپٹاگون کی بڑے پیمانے پر ترسیل ہوا کرتی تھی۔
تاہم بعد میں جب شام میں تبدیلی آئی اور صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی تو اسمگلنگ پر کچھ حد تک قابو پایا گیا۔ الشرع انتظامیہ نے متعدد بار بھاری مقدار میں گولیاں پکڑنے کے اعلانات کیے، مگر اس کے باوجود یہ زہر آلود کاروبار مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔
گزشتہ جولائی میں بھی لبنانی فوج نے اسی علاقے میں کیپٹاگون تیار کرنے والے سب سے بڑے کارخانوں میں سے ایک کو تباہ کر دیا تھا۔ اس وقت فوجی حکام نے کہا تھا کہ یہ کامیابی غیر قانونی تجارت کے خلاف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ تاہم اس کے باوجود جولائی کے بعد بھی کئی چھوٹی بڑی کھیپ پکڑی گئیں جن سے ظاہر ہوا کہ منشیات کا دھندہ ختم تو نہیں ہوا لیکن پہلے کے مقابلے میں کچھ کمی ضرور آئی ہے۔
لبنان کی حکومت کے لیے منشیات کی اسمگلنگ ایک دوہری چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف یہ داخلی سلامتی اور نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے، دوسری طرف یہ خطے میں لبنان کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی برا اثر ڈالتی ہے۔
خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور خلیج کی دیگر ریاستیں طویل عرصے سے اس مسئلے پر لبنان پر دباؤ ڈالتی آئی ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو اسمگلنگ کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کارروائی کو لبنانی فوج کی جانب سے نہ صرف ایک حفاظتی اقدام سمجھا جا رہا ہے بلکہ اسے سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فوج نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات کے خلاف جنگ کسی ایک کارروائی پر ختم نہیں ہو گی بلکہ یہ ایک طویل اور مسلسل جدوجہد ہے۔ انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کا خاتمہ صرف سرکاری اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ لبنان کے شہریوں کے لیے یہ ایک سنگین امتحان ہے کہ وہ اپنے ملک کو نشے کے اس خطرناک کاروبار سے محفوظ رکھنے میں کس طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
