پاکستان کے اہم ترین معدنی منصوبے ریکوڈک کان کنی پر آنے والی لاگت ایک بار پھر بڑھا دی گئی ہے اور یوں چھ ماہ کے اندر دوسری مرتبہ منصوبے کے اخراجات کا تخمینہ نظرثانی کے بعد بڑھایا گیا۔
منصوبہ جس کی ابتدائی لاگت دو ڈھائی سال پہلے تقریباً 4.3 ارب ڈالر لگائی گئی تھی، اب وہ بڑھ کر 7.7 ارب ڈالر سے بھی زیادہ تک جا پہنچی ہے۔ یعنی منصوبے پر آنے والے اخراجات میں لگ بھگ 79 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے، اور یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب ابھی منصوبے کی پیداوار کا آغاز بھی نہیں ہوا۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس لاگت میں اضافے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ قرضوں پر بڑھتی ہوئی شرح سود اور اضافی قرض لینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعمیری مرحلے کے دوران مہنگائی، تعمیراتی اخراجات اور مستقبل کے ممکنہ مالی جھٹکوں کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی فنڈز کا شامل کیا جانا بھی اخراجات کو بڑھانے کا سبب بنا۔
وزارت کے اعلیٰ حکام نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ منصوبے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر مزید فنانسنگ کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے قرض اور سود دونوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت پیٹرولیم نے ایک تفصیلی سمری پیش کی جس میں منصوبے سے متعلق مالی اور قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔
ای سی سی نے پہلے مرحلے کی مجموعی لاگت 7.72 ارب ڈالر کرنے کی منظوری دی جس میں سے تقریباً 5.8 ارب ڈالر صرف سرمایہ جاتی اخراجات پر مشتمل ہیں۔ کمیٹی نے اس بات کی اجازت بھی دی کہ اگر قانونی یا مالی مشیروں کی جانب سے کسی معاہدے میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کی جائے تو اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے لایا جائے گا۔
اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی خاص دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے۔ امریکہ اور چین دونوں اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔
اندازہ لگایا گیا ہے کہ 37 برسوں میں یہ منصوبہ تقریباً 70 ارب ڈالر کی خالص آمدن پیدا کرسکتا ہے، جو پاکستان کے موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر سے کئی گنا زیادہ ہے۔
ای سی سی نے منصوبے کے ساتھ جڑی دیگر تجاویز کی بھی منظوری دی۔ ان میں ریکوڈک مائننگ کمپنی کو پاکستان ریلوے کے لیے 390 ملین ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی اجازت دینا شامل ہے، جس کے ذریعے بلوچستان سے کراچی بندرگاہ تک تقریباً 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔
یہ ٹریک معدنیات کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے اور اس کے بغیر منصوبے کی تجارتی کامیابی ممکن نہیں۔ وزارت خزانہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس قرض پر تین سال کے لیے سات فیصد کے لگ بھگ سود عائد ہوگا اور پاکستان ریلوے کو اسے مقررہ مدت میں واپس کرنا ہوگا۔
ای سی سی نے اس دوران یہ بھی طے کیا کہ ریاستی ادارے جیسے او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل اپنے زرمبادلہ کے انتظامات اپنی سطح پر کریں گے، لیکن اگر کسی کمی کا سامنا ہوا تو وفاقی حکومت مدد فراہم کرے گی۔
اس بات کی بھی اجازت دی گئی کہ ریاستی ادارے جنوری 2023 سے اپنے فنڈز کو سات برس یا اس سے زیادہ عرصے میں واپس لا سکیں گے تاکہ منصوبے کے لیے مختص ان کا حصہ پورا کیا جا سکے۔
منصوبے کی ملکیت کے ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو بارک گولڈ کمپنی کے پاس اس میں 50 فیصد حصہ ہے اور وہی اس منصوبے کی آپریٹر بھی ہے۔ وفاقی حکومت کی تین کمپنیاں یعنی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاس مجموعی طور پر 25 فیصد حصص ہیں، جبکہ صوبہ بلوچستان کے پاس بھی 25 فیصد شیئرز ہیں۔
پہلا مرحلہ جس کی تکمیل 2029 میں متوقع ہے، اس کے دوران ہر سال تقریباً دو لاکھ ٹن تانبہ حاصل کیا جائے گا اور اس پر 5.7 ارب ڈالر کے اخراجات آئیں گے۔ دوسرا مرحلہ 2034 میں شروع ہوگا جس پر مزید 3.3 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور اس کے بعد پیداوار کی استعداد بڑھ کر 90 ملین ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔ یوں منصوبے پر کل لاگت تقریباً 10 ارب ڈالر کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔
اجلاس میں شریک وزرا اور حکام نے اعتراف کیا کہ منصوبے پر اخراجات بڑھنے کے باوجود یہ پاکستان کے لیے معاشی اعتبار سے ایک بڑی امید ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی ضمانتیں اور معاہدوں کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اس منصوبے کو ہر حال میں مکمل دیکھنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی معیشت بدل سکتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائے گا اور ملک کو طویل المدتی سماجی و اقتصادی فائدے پہنچائے گا۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے بھی اس موقع پر زور دیا کہ منصوبے کے ساتھ جڑی ریلوے لائن کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ پاکستان ریلوے طے شدہ مدت کے اندر قرض واپس کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریلوے کی موجودہ لائنوں کی اپ گریڈیشن نہ ہوئی تو تانبے اور سونے کی بڑی مقدار کراچی بندرگاہ تک منتقل نہیں کی جاسکے گی۔
ریکوڈک منصوبہ اپنی پیچیدہ مالیات، عالمی دلچسپی، بڑے پیمانے پر درکار انفراسٹرکچر اور مسلسل بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود اب بھی پاکستان کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ یہ منصوبہ اگر وقت پر اور کامیابی سے مکمل ہوا تو یہ نہ صرف بلوچستان کی تقدیر بدلنے کا سبب بنے گا بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی ایک گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔
