عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونا ایک مرتبہ پھر سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا اور قیمتوں نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
اس اضافے کی بڑی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسیوں کے بارے میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی توقعات ہیں، جن میں شرحِ سود میں مزید کمی کے امکانات پر زور دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیڈ کے حالیہ فیصلے اور اس ہفتے سامنے آنے والے ممکنہ اشارے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کو مزید سہارا دے سکتے ہیں۔
بین الاقوامی منڈی میں اس وقت سرمایہ کاروں کی نظریں دو بڑے عوامل پر جمی ہوئی ہیں۔ ایک جانب فیڈرل ریزرو کے متعدد عہدیدار آئندہ دنوں میں اہم خطابات کرنے والے ہیں، جن میں مرکزی توجہ چیئرمین جیروم پاول کے منگل کو ہونے والے خطاب پر ہے۔ دوسری طرف امریکی مہنگائی کے پیمانے، خاص طور پر "کور پرسنل کنزمپشن ایکسپنڈیچر (PCE)” کے اعداد و شمار جمعے کو جاری ہوں گے جو مستقبل کی شرح سود پر منڈی کی توقعات کو براہِ راست متاثر کریں گے۔
فیڈرل ریزرو نے گزشتہ بدھ کو دسمبر 2023 کے بعد پہلی بار شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی تھی۔ ساتھ ہی مزید نرمی کے دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ بھی دیا۔ اب سرمایہ کاروں کو اکتوبر اور دسمبر میں مزید دو مرتبہ 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع ہے، جس کی شرح امکانات سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق بالترتیب 93 فیصد اور 81 فیصد بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ اعتماد اور پیش گوئیاں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے لیے سب سے بڑا سہارا ہیں۔
پیر کی صبح عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ 0.9 فیصد اضافے کے بعد 3,716.27 ڈالر فی اونس پر جا پہنچا جبکہ سیشن کے آغاز میں اس نے 3,719.65 ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح بھی چھو لی۔
دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 3,751.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔ تکنیکی ماہرین کے مطابق 3,705 ڈالر فی اونس کی ریزسٹنس اگر ٹوٹ گئی تو قیمت 3,719 سے 3,739 ڈالر کے دائرے میں داخل ہو سکتی ہے۔
یوبی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنوو کے مطابق، اب صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ جہاں پہلے مرکزی بینکوں اور ایشیائی ممالک کی طلب سونے کو سہارا دے رہی تھی، اب مغربی سرمایہ کار بھی ای ٹی ایف ہولڈنگز کے ذریعے اپنی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ امریکی شرح سود میں کمی کی توقعات مغرب کے سرمایہ کاروں کو بھی قیمتی دھاتوں کی جانب کھینچ رہی ہیں۔
صرف سونا ہی نہیں بلکہ دیگر قیمتی دھاتوں نے بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ چاندی 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 43.64 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جو پچھلے چودہ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ پلاٹینیم 1.1 فیصد بڑھ کر 1,419.65 ڈالر فی اونس پر جبکہ پیلیڈیم بھی اتنے ہی تناسب سے بڑھ کر 1,161.85 ڈالر پر بند ہوا۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ سرمایہ کار مجموعی طور پر قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ کو زیادہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اسٹاؤنوو کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2026 کے وسط تک سونے کی قیمت 3,900 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔ اب تک رواں سال سونے کی قیمت میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کی وجہ عالمی سیاسی غیر یقینی صورتحال، معاشی دباؤ، مرکزی بینکوں کی خریداری اور شرح سود میں کمی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی بڑھتی ہوئی قیمت نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے کئی پہلوؤں سے تشویش ناک بھی ہے۔ کیونکہ جب سرمایہ کار سونے اور چاندی جیسی محفوظ پناہ گاہوں کی طرف بھاگتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ یا کرنسی مارکیٹ پر زیادہ اعتماد نہیں کر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ڈالر انڈیکس اور بانڈز کی ییلڈ پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
سونا اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور اگر فیڈرل ریزرو کے عہدیداروں کے آئندہ بیانات اور جمعے کو آنے والے افراطِ زر کے اعداد و شمار بھی شرح سود میں مزید کمی کا اشارہ دیتے ہیں تو قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ یقینی سمجھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کی حکمت عملی اب "انتظار اور دیکھو” سے نکل کر "تیزی سے خریداری” کی جانب جا رہی ہے، جو آنے والے مہینوں میں سونے کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
