اسلام آباد: اسلام آباد کا جناح کنونشن سینٹر سبز ہلالی اور سعودی پرچموں کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا، فضا روشنیوں سے جگمگا رہی تھی اور ہر طرف اتحاد و بھائی چارے کا منظر نمایاں تھا۔ یہ سب کچھ سعودی عرب کے 95ویں قومی دن کی شاندار تقریب کا حصہ تھا جس میں پاکستان کی سیاسی، عسکری، مذہبی اور سماجی قیادت نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز قومی ترانوں اور روایتی کیک کاٹنے سے ہوا جس نے دونوں ممالک کے درمیان لازوال رشتے کی علامت کو اجاگر کیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ ’’اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ‘‘ دونوں ممالک کے اعتماد، بھائی چارے اور سلامتی کے لازوال رشتے کی مثال ہے۔ انہوں نے کہاارضِ حرمین شریفین کی حفاظت محض ذمہ داری نہیں، بلکہ ہمارے لیے اعزاز اور سعادت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ویڈیو پیغام میں سعودی قیادت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ولی عہد محمد بن سلمان کی وژنری قیادت میں ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ انہوں نےاس عزم کااعادہ کیاکہ پاکستان ہرشعبےمیں سعودی عرب کےساتھ تعلقات کومزید مضبوط کرےگا۔
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق محض سفارتی یا دفاعی نہیں، بلکہ ایمان، تاریخ اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کا شعر پڑھ کر مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی پر زور دیا اور اعلان کیا کہ سعودی عرب ہر حال میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اب سعودی عرب کا قومی دن پاکستان کا قومی دن ہے، کیونکہ دفاعی معاہدے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کے ضامن ہیں۔ پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے بھی یہی کہا کہ پاکستان میں سعودی قومی دن ایسے منایا جا رہا ہے جیسے یہ 14 اگست ہو۔
تقریب میں سیاسی رہنما شاہ اویس نورانی نے دعا کی کہ دونوں ممالک کی دوستی نسل در نسل قائم و دائم رہے۔
تقریب کی رونق اس وقت دوبالا ہو گئی جب معروف گلوکار شہزاد رائے نے اپنی آواز سے شرکاء کو محظوظ کیا، جبکہ ننھے فنکار ریان زار اور اسحاق زار نے سعودی قومی ترانہ بجا کر حاضرین کے دل جیت لیے۔
اسلام آباد کی سڑکیں سعودی اور پاکستانی پرچموں سے سجی رہیں، عمارتیں سبز روشنیوں سے جگمگاتی رہیں، اور یہ دن اس بات کا واضح پیغام بن گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دل کی دو دھڑکنیں ہیں، اور امت مسلمہ کے اتحاد کا مضبوط ستون بھی۔
