تہران/نیویارک؛ایرانی معیشت ایک نئی ہچکولے دار سطح پر پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز ایرانی ریال نے تاریخ کی کم ترین قدر کو چھوتے ہوئے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 10 لاکھ 74 ہزار تک گرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ شدید گراوٹ ایسے وقت میں ہوئی جب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے والے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس معاشی دھچکے کی بڑی وجہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا حالیہ اعلان ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر براہِ راست مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس اعلان نے نہ صرف سرمایہ کاروں اور تاجروں کے اعتماد کو مزید ہلا دیا بلکہ ایران کے سفارتی امکانات کو بھی محدود کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خامنہ ای کے اس دوٹوک مؤقف نے صدر پیزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی نیویارک میں ممکنہ سفارتکاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے عالمی منڈیوں اور یورپی طاقتوں کو یہ پیغام گیا ہے کہ ایران کسی لچک پر تیار نہیں، جس کا براہِ راست اثر ایرانی کرنسی پر پڑا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور یورپی ممالک کے درمیان آخری لمحات میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں دلا رہے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر دوبارہ جوہری پابندیاں عائد کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور انہیں روکنے کے لیے 30 دن کی مدت رواں ہفتے کے اختتام، یعنی اتوار کو ختم ہو جائے گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں دوبارہ نافذ ہوئیں تو ایران کی کرنسی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے اور خطے میں اقتصادی عدم استحکام کی نئی لہر پیدا ہو گی۔
