پاکستان نے خلا کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) کی قیادت میں ملک کا پہلا جدید ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ تیار کر لیا گیا ہے، جو اکتوبر 2025 میں خلا میں بھیجا جائے گا۔ یہ سیٹلائٹ پاکستان کے لیے سائنسی تحقیق اور اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپارکو کے مطابق یہ سیٹلائٹ زمین اور فضا کے ان گوشوں کو کھول دے گا جو اب تک انسانی تحقیق سے دور تھے۔ اس کی مدد سے معدنی وسائل کی تلاش، زرعی پیداوار میں اضافہ، سیلاب کی نگرانی، گلیشیئرز کے پگھلنے اور فضائی آلودگی پر تحقیق میں انقلاب آئے گا۔
چیئرمین اسپارکو محمد یوسف نے اس سنگ میل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ سیٹلائٹ معدنیات، پودوں، مٹی اور پانی کے معیار کے انتہائی درست اعداد و شمار فراہم کرے گا۔ برسوں میں مکمل ہونے والے سروے اب صرف چند دنوں میں ہو سکیں گے، جو پاکستان کی تحقیقاتی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے گا بلکہ پاکستان کو ان ممالک کی صف میں کھڑا کر دے گا جو زمین اور ماحول کی نگرانی کے لیے جدید ترین خلائی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔
یہ کامیابی پاکستان کے لیے وژن 2047 کی جانب ایک طاقتور قدم سمجھی جا رہی ہے اور ملک کو مستقبل کے سائنسی، معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائے گی۔
