سعودی عرب کی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ منشاءات یعنی "سعودی جنرل اتھارٹی برائے چھوٹے و درمیانے کاروبار” نے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کئی ایسے اعداد و شمار اور رجحانات سامنے رکھے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ مملکت میں کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور یہ شعبہ آنے والے برسوں میں مزید امکانات سے بھرپور ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف سال 2025 کی دوسری سہ ماہی میں 80 ہزار سے زائد نئے کمرشل رجسٹریشنز مکمل کیے گئے۔ یوں مجموعی طور پر سعودی عرب میں کمرشل رجسٹریشنز کی کل تعداد بڑھ کر 17 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ یہ پیش رفت سعودی معیشت میں کاروباری اعتماد، پالیسیوں کی شفافیت اور سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع کی واضح علامت ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نئے کاروباری اندراجات میں 38 فیصد ملکیت نوجوانوں کے پاس ہے، جبکہ 47 فیصد خواتین کی ملکیت میں ہیں۔ یہ اعداد اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ سعودی وژن 2030 کے تحت نوجوان اور خواتین دونوں ہی کاروباری دنیا کے اہم کردار بن کر ابھر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ نئے رجسٹریشنز ریاض ریجن میں ہوئے، جن کی تعداد 28,181 (35.2 فیصد) ہے۔ دوسرے نمبر پر مکہ 14,498 رجسٹریشنز (18.1 فیصد)، تیسرے پر مشرقی صوبہ 12,985 رجسٹریشنز (16.2 فیصد)، پھر قصیم 4,920 (6.2 فیصد)، اور باقی سعودی خطوں میں مجموعی طور پر 19,416 (24.3 فیصد) رجسٹریشنز ریکارڈ کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ای-کامرس کے شعبے میں 39,366 رجسٹریشنز ہوئیں۔ یہ رجحان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب میں آن لائن کاروبار کس تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ڈیجیٹل معیشت مستقبل کی بنیاد بن رہا ہے۔
رپورٹ کے افتتاحی سیشن میں وزیرِ تعلیم یوسف البنایان نے بتایا کہ تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کا حجم 2030 تک 50 ارب سعودی ریال سے زائد ہو جائے گا۔ اس وقت تعلیمی اداروں میں 98 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شامل ہیں، جو اس سیکٹر کو آگے بڑھانے والی اصل قوت ہیں۔ مزید یہ کہ 39.4 فیصد تعلیمی ادارے خواتین کی ملکیت میں ہیں، جو خواتین کی بڑھتی ہوئی قیادت اور سرمایہ کاری کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
منشاءات نے اپنی رپورٹ میں کئی ایسے پروگرامز کا ذکر کیا جو SMEs کو سہارا دینے کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔ ان میں سے "طموح پروگرام” سب سے نمایاں ہے، جس سے صرف دوسری سہ ماہی میں 3,175 کاروبار مستفید ہوئے۔ ان میں سے کئی کمپنیوں نے بعد ازاں اسٹاک مارکیٹ کے متوازی سیکشن "نومو” میں بھی شمولیت اختیار کی۔
مالیاتی اعتبار سے سب سے بڑا اقدام کفالت پروگرام ہے، جو 2006 میں شروع ہوا۔ اس پروگرام کے ذریعے مختلف اسکیموں اور پروڈکٹس کا حجم بڑھ کر 121 ارب ریال تک پہنچ چکا ہے۔ صرف ضمانتوں (Guarantees) کی مالیت ہی 86.8 ارب ریال سے زیادہ رہی، جس سے 26,095 کاروبار کو فائدہ ہوا۔ یہ تمام سہولتیں 12 مختلف فنانسنگ پروگرامز کے ذریعے فراہم کی گئیں۔
رپورٹ نے سعودی عرب کے وینچر کیپیٹل سسٹم کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔ سال 2025 کی پہلی ششماہی میں سعودی اسٹارٹ اپس نے 3.225 ارب ریال کی فنڈنگ حاصل کی، جو کہ 114 معاہدوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔
یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں سرمایہ کے حجم میں 116 فیصد اضافہ اور ڈیلز کی تعداد میں 31 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا حصہ MENA خطے کے کل وینچر کیپیٹل میں 56 فیصد رہا، اور سال کے اختتام تک فنڈنگ 3.75 ارب ریال سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
رپورٹ نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ سعودی دارالحکومت ریاض مملکت کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے۔ اس کا حصہ سعودی غیر تیل جی ڈی پی میں 50 فیصد ہے۔ مزید یہ کہ ریاض نے اب تک 600 سے زائد بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنی ریجنل ہیڈ کوارٹرز قائم کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
منشاءات کی رپورٹ کے مطابق سعودی پرائیویٹ سیکٹر مسلسل بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ اس میں غیر تیل سرمایہ کاری اور مسلسل معاشی سرگرمیاں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ منشاءات کے پلیٹ فارمز جیسے منشاءات اکیڈمی، مزایا پلیٹ فارم اور انویشن سینٹرز نے ہزاروں کاروباری حضرات کو سہولیات اور تربیت فراہم کی ہے۔
یہ سہ ماہی رپورٹ دراصل ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے، جسے منشاءات وقتاً فوقتاً جاری کرتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کاروباری نظام کے موجودہ اور مستقبل کے امکانات پر درست اور جامع ڈیٹا فراہم کیا جائے تاکہ فیصلہ ساز، سرمایہ کار اور کاروباری حضرات اس سے رہنمائی لے سکیں۔
یہ رپورٹ واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب نہ صرف اپنی غیر تیل معیشت کو وسعت دے رہا ہے بلکہ SMEs، نوجوانوں، خواتین اور ڈیجیٹل بزنس کو فروغ دے کر مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد قائم کر رہا ہے۔ منشاءات کے اقدامات اور حکومتی پالیسیوں نے کاروباری طبقے کے اعتماد کو بڑھایا ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی سعودی عرب کو پرکشش بنایا ہے۔
