بلوچستان ایک بار پھر خوفناک ٹریفک حادثات سے لرز اٹھا۔ گزشتہ روز پنجگور اور پشین میں پیش آنے والے دو الگ الگ حادثات میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 28 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دونوں واقعات نے صوبے میں روڈ سیفٹی کے سنگین بحران کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
پہلا حادثہ پنجگور میں ایم ایٹ شاہراہ پر اس وقت پیش آیا جب کراچی سے پنجگور جانے والی مسافر بس ایرانی تیل سے بھری ایک پک اپ گاڑی (زمباد) سے ٹکرا گئی۔ ڈپٹی کمشنر پنجگور میجر ریٹائرڈ کبیر زرکون کے مطابق تصادم کے بعد پک اپ میں موجود تیل نے فوراً آگ پکڑ لی، جو بس تک پھیل گئی۔ نتیجے میں آٹھ افراد جھلس کر موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ تین زخمی ہوئے۔ ایک زخمی کو نازک حالت کے باعث کراچی منتقل کر دیا گیا۔
ہلاک ہونے والوں میں چھ مسافر ضلع خضدار کے رہائشی تھے جبکہ دو افراد پک اپ میں سوار پنجگور کے مقامی باشندے تھے۔ ان کی لاشیں ضروری کارروائی کے بعد آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے شدید جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا اور زخمیوں کو گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کیا۔
بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی تیل کی سمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی ساختہ پک اپ گاڑیاں، جنہیں مقامی طور پر ’زمباد‘ کہا جاتا ہے، اکثر خوفناک حادثات کا باعث بنتی ہیں۔ یہ گاڑیاں روزانہ ہزاروں لیٹر ایرانی ڈیزل اور پٹرول صوبے کے مختلف حصوں میں لے جاتی ہیں، اور ماہرین کے مطابق سڑکوں پر سب سے بڑا خطرہ یہی ہیں۔
دوسرا حادثہ ضلع پشین کے علاقے خانوزئی میں این 50 ہائی وے پر پیش آیا، جہاں ایک مسافر بس اور کار میں تصادم ہوا۔ اسسٹنٹ کمشنر کاریزات امیر حمزہ بلو کے مطابق کار میں سوار دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ بس الٹنے سے 25 مسافر زخمی ہوئے جنہیں سول ہسپتال خانوزئی منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔
یہ حادثات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب ایک روز قبل ہی ضلع شیرانی کے قریب ایک ٹرک کھائی میں گرنے سے 11 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں حادثات کی بڑی وجوہات میں ناقص سڑکیں، سنگل ٹریک شاہراہیں اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا شامل ہیں۔
میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر (میرک 1122) کے اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2024 میں بلوچستان کی سات بڑی شاہراہوں پر 23 ہزار سے زائد حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 418 افراد ہلاک اور 31 ہزار 854 زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار نے صوبے میں روڈ سیفٹی کی سنگین صورتحال کو نمایاں کر دیا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
