پاکستان کی مالیاتی منڈیوں نے کاروباری ہفتے کے آغاز پر نئی تاریخ رقم کر دی جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے کے ایس ای-100 انڈیکس نے پہلی مرتبہ اپنی ٹریڈنگ ہسٹری میں *ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر لی۔ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس میں *854 پوائنٹس کا شاندار اضافہ دیکھا گیا اور یہ 163,111 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر جا پہنچا، جسے سرمایہ کاروں اور بروکرز نے ملکی ایکویٹی مارکیٹ کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ تاہم، درمیانی سیشن تک ہلکی سی مندی کے باعث انڈیکس واپس آکر تقریباً 162,912 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو اب بھی غیر معمولی استحکام اور مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ رفتار پاکستان کی معیشت پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، جسے بہتر میکرو اکنامک اشاریوں، مستحکم کارپوریٹ نتائج اور حکومتی اصلاحات کے بارے میں مثبت تاثر نے مزید تقویت دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی واپسی اور بلیو چپ حصص میں بڑھتی ہوئی دلچسپی نے بھی منڈی میں تیزی کو دوگنا کر دیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافہ صرف ایک عددی سنگ میل نہیں بلکہ عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان کی معاشی لچک اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کا ایک علامتی اظہار ہے۔ کچھ ماہرین اس رجحان کو اسٹیٹ بینک کی محتاط مانیٹری پالیسی، حکومتی پالیسیوں کے تسلسل، اور اوورسیز پاکستانیوں و بین الاقوامی فنڈز سے آنے والے سرمایے سے جوڑتے ہیں۔ تاہم، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سطح پر استحکام برقرار رکھنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور بیرونی کھاتوں پر قابو پانے کی صلاحیت ناگزیر ہوگی۔
کے ایس ای-100 انڈیکس کو 1991 میں 1,000 پوائنٹس کی بنیاد سے شروع کیا گیا تھا تاکہ ملک کی بڑی اور متحرک کمپنیوں کی کارکردگی کا پیمانہ فراہم کیا جا سکے۔ تین دہائیوں کے بعد آج یہ نہ صرف پاکستان کی سرمایہ کاری کی دنیا کا اہم پیمانہ ہے بلکہ خطے کی سب سے نمایاں مالیاتی کارکردگی کا اشارہ بھی بن چکا ہے۔
اس ریکارڈ ساز کارکردگی نے جہاں پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے وہیں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار اب بھی آنے والے حکومتی پالیسی فیصلوں، عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس بات کا تعین آنے والا وقت کرے گا کہ آیا اسٹاک مارکیٹ مزید بلندیوں کو چھوتی ہے یا نئی سطح پر استحکام حاصل کرتی ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ کامیابی پاکستان کی وسیع تر معاشی کہانی میں اسٹاک مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کر چکی ہے۔
