اسلام آباد: قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کا ایک ان کیمرا (بند دروازوں کے پیچھے) اجلاس چیئرمین ذوالفقار علی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں لانگ ڈسٹنس انٹرنیشنل (LDI) ٹیلی کام کمپنیوں کے ذمے واجب الادا اربوں روپے کے بقایاجات کا معاملہ زیرِ غور آیا۔
ذرائع کے مطابق یہ خفیہ اجلاس وزارتِ قانون و انصاف کی درخواست پر بلایا گیا تھا تاکہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ادائیگی تنازعات کے حل پر غور کیا جا سکے۔
تاہم طویل مشاورت کے باوجود کمیٹی کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ کی غیر حاضری بھی فیصلے میں رکاوٹ بنی۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری قانون اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سب کمیٹی کو ان مقدمات پر بریفنگ دی جو مختلف عدالتوں میں واجبات سے متعلق زیرِ التوا ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے متعدد ایل ڈی آئی کمپنیوں کے خلاف سماعت کے بعد ڈیٹرمنیشن آرڈرز جاری کیے تھے، مگر کئی کمپنیوں نے عدالتوں سے اسٹی آرڈرز حاصل کر لیے، جس کے باعث ادائیگی کا عمل رک گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعض کمپنیوں نے اپنی تجاویز پیش کی ہیں جن میں زیادہ تر نے اصل رقم قسطوں میں ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ کچھ کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ عدالتوں کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔
سرکاری نمائندوں نے واضح کیا کہ قسطوں کی منظوری کا اختیار وزارتِ آئی ٹی کے پاس ہے، نہ کہ پی ٹی اے کے۔
کمیٹی ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایسے مالی تنازعات کے عدالتی فیصلوں کو تیز رفتار بنانا چاہیے۔ ارکان نے نشاندہی کی کہ اگر ٹیلی کام ٹربیونل فعال ہوتا تو یہ معاملات برسوں تک عدالتوں میں نہ الجھتے۔
افسران نے وضاحت کی کہ ٹربیونل کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری وزارتِ قانون کے دائرہ اختیار میں آتی ہے
