تہران: ایران میں سیاسی اور عدالتی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی عدلیہ نے سابق رکنِ پارلیمنٹ اور "مردم سالاری” پارٹی کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ کوکبیان کو حساس نوعیت کے الزامات پر 14 ماہ قید کی معطل سزا سنائی ہے۔ سرکاری خبر ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب کوکبیان نے ایک فرانسیسی نژاد صحافی کیتھرین شکدم پر ایران کے حساس اداروں میں دراندازی کے الزامات عائد کیے تھے۔ عدالت نے سزا کو چار سال کے لیے معطل کرتے ہوئے کوکبیان پر دو برس تک میڈیا سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔
کوکبیان نے سرکاری ٹی وی پر کہا تھا کہ “کیتھرین شکدم مغرب کی جانب سے ایران میں دراندازی کی واضح مثال ہیں، جنہوں نے 120 اعلیٰ ایرانی شخصیات سے تعلقات قائم کیے۔” یہ بیان فوری طور پر ایرانی میڈیا اور سکیورٹی اداروں میں ہلچل کا باعث بنا، جس کے بعد عدلیہ نے انہیں “جھوٹی خبریں پھیلانے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے” کا مرتکب قرار دیا۔ کوکبیان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اُن کا مقصد صرف “دراندازی کے خطرے سے خبردار کرنا” تھا، نہ کہ کسی فرد یا ادارے کو بدنام کرنا۔
فرانسیسی نژاد کیتھرین شکدم، جو برطانیہ میں مقیم ہیں، ماضی میں تسنیم، مہر اور کیہان جیسے ایرانی قدامت پسند میڈیا اداروں میں لکھتی رہی ہیں اور “محورِ مزاحمت” کی حامی سمجھی جاتی تھیں۔ تاہم 2021ء میں ’ٹائمز آف اسرائیل‘ میں شائع اپنے مضمون میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ایرانی میڈیا میں “دراندازی کے مشن” پر مامور تھیں تاکہ تہران کے فیصلہ سازی کے نظام کو قریب سے سمجھ سکیں۔ اس انکشاف نے مغربی اور عرب میڈیا میں وسیع بحث کو جنم دیا اور ایران کے اندر ممکنہ سکیورٹی لیکس پر نئی تشویش پیدا ہوئی۔
کوکبیان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب 13 جون 2025ء کے اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں اندرونی سکیورٹی کے خدشات میں اضافہ ہو چکا تھا۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ان حملوں میں ایران کے اندر سے حاصل معلومات استعمال کیں جس سے حساس اداروں میں بے چینی مزید بڑھ گئی۔
اصلاح پسند اخبار ’اعتماد‘ نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ عدلیہ کا یہ اقدام اظہارِ رائے اور قومی سلامتی کے درمیان نئی لکیر کھینچنے کے مترادف ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جھوٹ پر مبنی خبریں عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور میڈیا مدیران اپنی شائع کردہ معلومات کے مکمل ذمہ دار ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصطفیٰ کوکبیان اور کیتھرین شکدم کا معاملہ اب اس سوال کی علامت بن چکا ہے کہ ایران میں اظہارِ رائے کہاں ختم ہوتا ہے اور قومی سلامتی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔
