پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے اور مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کے راستے وسیع کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ملکی کاروباروں کو ڈالر جیسے سخت زرِمبادلہ میں قرض لینے سے وابستہ غیر یقینی صورتحال سے نکالا جائے اور روپے میں مستحکم فنانسنگ کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ معاہدہ انٹرنیشنل سویپس اینڈ ڈیریویٹوز ایسوسی ایشن یعنی آئی ایس ڈی اے کے فریم ورک کے تحت کیا گیا، جس کی مدد سے آئی ایف سی اب پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے کرنسی ریٹ کے اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات کو بہتر انداز میں مینج کرسکے گی۔
ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں جب عالمی مالیاتی ادارے سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اکثر قرض یا سرمایہ کاری امریکی ڈالر یا دیگر غیر ملکی کرنسی میں ہوتی ہے جبکہ مقامی کمپنیوں کی آمدنی روپے میں ہوتی ہے۔ اس عدم توازن کے باعث جب ایکسچینج ریٹ میں تبدیلی آتی ہے تو کاروبار شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد اسی خطرے کو کم کرنا ہے تاکہ کاروباری ادارے اپنے منصوبوں پر توجہ دے سکیں اور کرنسی کی غیر یقینی صورتحال ان کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے نجی شعبے کو مضبوط کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی طویل المدتی ترقی کا راستہ اسی وقت کھل سکتا ہے جب نجی سرمایہ کاری کو سازگار ماحول میسر ہو اور بین الاقوامی ادارے مقامی کرنسی میں سرمایہ لگانے کے لیے پراعتماد ہوں۔
اس تعاون سے نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے بلکہ روزگار کے نئے دروازے بھی کھلیں گے، جو ملکی معاشرے کے لیے ایک مثبت اور دیرپا اثر ڈالیں گے۔ دوسری جانب آئی ایف سی کے نائب صدر اور ٹریژری و موبلائزیشن کے سربراہ جان گینڈولفو نے بھی اعتراف کیا کہ ترقی پذیر ممالک میں کرنسی کے عدم استحکام نے سرمایہ کاری کے مواقع پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کے مطابق آج کی معاشی حقیقت یہ ہے کہ اگر سرمایہ کاری کو حقیقی فائدہ پہنچانا ہے تو اسے مقامی کرنسی میں دستیاب کرانا ہوگا تاکہ معاشی سرگرمیوں میں تسلسل قائم رہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند عرصے سے معاشی عدم استحکام کے باعث ڈالر کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس نے کاروباری ماحول کو متاثر کیا۔ ایسی صورتحال میں جب کوئی کمپنی بیرونی کرنسی میں قرض لیتی ہے اور پھر مقامی مارکیٹ میں روپے میں آمدنی پیدا کرتی ہے تو محض ایکسچینج ریٹ میں تبدیلی ہی اس کی منصوبہ بندی کو ناکام بنا سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب اسٹیٹ بینک نے فیصلہ کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے میکنزم تیار کیے جائیں جن کے تحت مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان کو امید ہے کہ وہ اپنی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرسکے گا اور غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جب بیرونی ادارے مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کریں گے تو ملکی مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی بڑھے گی، جس کا فائدہ نجی شعبے کو ملے گا۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے اور تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے اسٹاف لیول ایگریمنٹ کے تحت مزید فنڈنگ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایسی صورت میں جب حکومت پر عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے اصلاحات نافذ کرنے کا دباؤ ہے، اسٹیٹ بینک اور آئی ایف سی کی یہ شراکت داری ایک اضافی سہارا فراہم کرے گی جس سے ملک کے اندر سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا حالیہ دورہ واشنگٹن، جہاں انہوں نے آئی ایف سی اور اسلامی ترقیاتی بینک کے حکام سے ملاقاتیں کیں، اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اب صرف امداد یا بیرونی قرضوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ نجی شعبے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا چاہتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ جب بھی بیرونی قرض کی ادائیگیاں ڈالر میں کرنی پڑتی تھیں تو حکومت کو فوری طور پر زرمبادلہ اکٹھا کرنے کے لیے درآمدات پر پابندیاں لگانی پڑتی تھیں یا پھر شرح سود میں اضافہ کرنا پڑتا تھا جس سے مقامی صنعتیں دباؤ میں آ جاتی تھیں۔ لیکن اگر آئی ایف سی جیسے ادارے مقامی کرنسی میں طویل المدتی سرمایہ کاری کریں گے تو اس کے نتیجے میں ایک ایسا معاشی فریم ورک تشکیل پاسکتا ہے جو بیرونی دباؤ سے کافی حد تک آزاد ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کو بھی امید ہے کہ یہ شراکت داری نہ صرف مالیاتی استحکام میں معاون ثابت ہوگی بلکہ پاکستان کی کرنسی کے لیے ایک بہتر توازن کی راہ ہموار کرے گی۔ آئی ایف سی ایک ایسا ادارہ ہے جو دنیا کے سو سے زائد ممالک میں نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے، اس کا مقصد صرف سرمایہ دینا نہیں بلکہ کاروباری اداروں کو اس قابل بنانا بھی ہے کہ وہ عالمی معیار کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بڑھا سکیں۔
جب عالمی مارکیٹ میں کرنسی کے خطرات بڑھ جائیں تو سرمایہ کار عام طور پر ایسے ممالک میں سرمایہ نہیں لگاتے جہاں پالیسی فریم ورک غیر واضح ہو۔ لیکن اسٹیٹ بینک اور آئی ایف سی کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اب اپنے مالیاتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ ایک مضبوط اور شفاف میکنزم کے ذریعے اگر کرنسی رسک کو مینج کیا جائے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے اور وہ طویل مدتی شراکت داریوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس تعاون کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جب مقامی کرنسی میں بین الاقوامی سرمایہ آئے گا تو بینکاری نظام کے اندر مسابقت بڑھے گی اور نجی شعبے کی فنانسنگ مزید متحرک ہوگی۔ اس سے نہ صرف موجودہ کاروباروں کو سہولت ملے گی بلکہ نئے اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروبار بھی آسان شرائط کے ساتھ فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔
اگر معاشی ترقی کے ماڈلز کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے ہمیشہ نجی شعبے کو مضبوط کرنے پر توجہ دی ہے۔ پاکستان میں بھی اب یہ احساس گہرا ہوتا جارہا ہے کہ سرکاری اخراجات پر چلنے والا ماڈل اب زیادہ دیر تک کام نہیں کرسکتا اور اس کی جگہ ایک ایسا نظام لانا ہوگا جس میں نجی سرمائے کو اہمیت دی جائے۔
اسی تصور کو عملی شکل دینے کے لیے اسٹیٹ بینک نے عالمی اداروں کے ساتھ روابط بڑھانے شروع کیے ہیں تاکہ نہ صرف سرمایہ کاری آئے بلکہ پالیسی سازی میں بھی جدید خطوط شامل کیے جاسکیں۔ آئی ایف سی جیسے ادارے جب کسی ملک میں شراکت داری کرتے ہیں تو وہ محض سرمایہ نہیں لاتے بلکہ اپنی عالمی تجربات کی روشنی میں مقامی پالیسی اداروں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ توقع کی جارہی ہے کہ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان کے مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا عمل بھی تیز ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ بھی ایک موقع ہے کہ وہ اپنی معاشی تصویر کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرے۔ ماضی میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو عالمی اداروں سے بار بار بیل آؤٹ لیتا ہے لیکن اب اگر نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دیا جائے اور مقامی کرنسی میں فنانسنگ کے امکانات روشن کیے جائیں تو یہ تاثر بدل سکتا ہے۔ اس تناظر میں اسٹیٹ بینک کی یہ حکمت عملی کہ مقامی مارکیٹ کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے مربوط کیا جائے، ایک مثبت قدم ہے۔ جب پالیسی سطح پر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں تو ان کا اثر براہ راست مارکیٹ کے اعتماد پر پڑتا ہے اور طویل المدتی معاشی منصوبے زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار کیے جاسکتے ہیں۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب مقامی کرنسی میں سرمایہ دستیاب ہوگا تو درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروباروں کے لیے بھی فنانسنگ کے دروازے کھلیں گے۔ عام طور پر یہ ادارے غیر ملکی کرنسی میں قرض نہیں لے پاتے کیونکہ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کرنسی ریٹ میں تبدیلی ان کے بجٹ کو کیسے متاثر کرسکتی ہے۔ لیکن اگر انہیں روپے میں ہی قرض دیا جائے اور اس کے ساتھ ایک واضح رسک مینجمنٹ فریم ورک بھی ہو تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ یہی وہ ماڈل ہے جسے آئی ایف سی نے دنیا کے دیگر ممالک میں کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے، اور اب پاکستان کے ساتھ یہ تجربہ ایک نئی مثال قائم کرسکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آئی ایف سی کے درمیان ہونے والی یہ شراکت داری محض ایک مالیاتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام میں ایک مضبوط اور پائیدار مقام دلانا ہے۔ اگر اس منصوبے کو درست انداز میں آگے بڑھایا گیا تو نہ صرف نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ عوام کو بھی روزگار، بہتر مالیاتی سہولیات اور معاشی استحکام کی صورت میں اس کے ثمرات ملیں گے۔
