اسرائیلی وزیر خزانہ نے ایک کانفرنس کے دوران سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اگر ہمارے ساتھ نارملائزیشن اس شرط پر کرنا چاہتا ہے کہ پہلے ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں تو "نہیں، آپ کا شکریہ، آپ عرب کے صحرائوں میں اونٹوں کی سواری جاری رکھیں”۔
اسرائیلی وزیر خزانہ نے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ایک ویڈیو بیان میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ "میرا بیان افسوسناک ہے لیکن سعودیوں کے اقدامات بھی بہت زیادہ جارحانہ ہیں، انھیں فلسطین کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے”۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے میں سعودی عرب کے ساتھ حالات معمول پر لانے والے معاہدے کے امکان کو صاف طور پر مسترد کر دیا ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ہمیں فلسطینی ریاست کے بدلے حالات معمول پر لانے کا کہتا ہے تو نہیں شکریہ، ہم ایسا نہیں چاہتے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ نے اپنی پوسٹ کردہ ویڈیو میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ: "سعودی عرب کے بارے میں میرا بیان غیر منصوبہ بند، ناکام اور جگہ سے باہر تھا۔ مجھے اس پر افسوس ہے لیکن میں منافقت قبول کرنے کو بھی تیار نہیں ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ خدا نہ کرے، سعودی مجھے یا ہمارے بیٹے کو کوئی نقصان پہنچائیں۔
در حقیقت ہمیں اسرائیل کی سرزمین کو پھاڑنا، اسے تقسیم کرنا، اس میں ایک ایسی دہشت گرد ریاست قائم کرنا جو ہمارے وجود اور مستقبل کو خطرے میں ڈالے، یہ وہ تمام حرکتیں ہیں جنہیں سعودی عرب حالیہ دنوں میں فروغ دے رہا ہے، یہ سب ایک ناکام مشق ہے اور اسرائیل کے لیے کئی گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔
سموٹریچ کے یہ تبصرے، غزہ کے حوالے سے امن معاہدے اور بات چیت کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں، خلیجی ریاستوں میں سے ایک ریاست کے سفارت کار نے دار نیوز کو بتایا تھا کہ "غزہ میں جنگ کا خاتمہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان حالات کو معمول پر لانے کے قریب لا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اسرائیل کو سعودی شرائط ماننا ہوں گی، تاہم یہ ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہوا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ سعودیز پیشرفت کی شرط کے طور پر "مسئلہ فلسطین پر کچھ بڑے” کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار "کان نیوز” کا کہنا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے ایک ذریعے نے حالیہ مہینوں میں کان نیوز کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد بھی دو ریاستی حل اور 1967ء کی پوزیشن پر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم رہے گا۔
جیسا کہ کان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر اور سعودی ولی عہد نے گزشتہ ماہ اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ یہودیہ اور سامریہ کے اسرائیل کے ساتھ الحاق (قبضے) کی صورت میں، متحدہ عرب امارات ابراہیم معاہدے سے دستبردار ہوجائے گا۔سعودیوں کے لیے اس طرح کے اقدامات کے بعد حالات معمول پر لانے کا کوئی بھی امکان ختم ہوتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہودیہ اور سامریہ القدس کے قریب دو جگہیں ہیں جو پہلے فلسطین کا حصہ ہوتی تھیں لیکن اب اسرائیل کے زیر قبضہ ہیں۔ جن کے متعلق اسرائیل کا دعوی ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے ساتھ الحاق کیا ہے۔ یہودیہ میں یہودیوں کی اکثریت ہے جبکہ سامریہ میں سامری مذہب ماننے والے لوگ زیادہ ہیں۔
کان نیوز کے مطابق ایک سعودی اہلکار نے ان کے نمائندے کو بتایا ہے کہ اسرائیل، یہودیہ اور سامریہ پر اپنے قبضے کو طول دے کر، سعودی عرب کے ساتھ حالات معمول پر لانے کے ابتدائی امکانات کو خود ہی ختم کر رہا ہے کیونکہ وہ شاید امن کا خواہاں نہیں ہے۔ اہلکار نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات "ایران اور حماس کے ہاتھوں میں کھیلنا ہے”۔ بہتر ہوتا، اسرائیل سعودی شرائط پر فلسطین کو تسلیم کرلیتا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ کے سعودی عرب کے خلاف بیان پر سعودی عرب کی طرف سے کوئی آفیشل رد عمل سامنے نہیں آیا، اسرائیلی وزیر نے خود ہی بیان دیا، بعد میں خود ہی وضاحت کرتے ہوئے معافی مانگی۔ البتہ سعودی سوشل میڈیا پر مذکورہ وزیر پر سخت تنقید کی گئی۔
