پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کراچی:میں جمعہ کے روز زبردست تیزی دیکھی گئی جب کے ایس ای-100 انڈیکس میں 4,898 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 3.13 فیصد بڑھ کر 161,631.73 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یہ اضافہ گزشتہ سات روزہ مندی کے سلسلے کو ختم کرتے ہوئے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تیزی بنیادی طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیزفائر (جنگ بندی) میں توسیع، انسٹی ٹیوشنل خریداروں کی واپسی اور مارکیٹ ویلیوایشن کے بہتر ہونے کی وجہ سے آئی۔
چیس سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ یوسف ایم فاروق نے کہا کہ مارکیٹ میں آج کی بحالی سیزفائر مذاکرات، رول اوور ہفتے کے اختتام اور بڑی سرمایہ کاری کمپنیوں کی تازہ دلچسپی کے نتیجے میں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کاروں کی نظریں آئی ایم ایف کے ریویو اور ممکنہ ٹیکس اقدامات پر ہیں، جو مالی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہوں گے۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ اویس اشرف کے مطابق افغانستان کے ساتھ سیزفائر کے تسلسل کے بعد مارکیٹ کی توجہ دوبارہ بہتر ہوتے معاشی اشاریوں کی جانب مبذول ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کمپنیاں جنہوں نے حالیہ دنوں میں مضبوط مالی نتائج یا توسیعی منصوبوں کا اعلان کیا، ان کے شیئرز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں مارکیٹ کے لیے اہم عوامل میں آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری، ریکوڈک منصوبے کا مالیاتی اختتام اور قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدوں کی ازسرِنو گفت و شنید شامل ہیں۔
پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ریسرچ ہیڈ سامی اللہ طارق نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے،جس کے اثرات اسٹاک مارکیٹ میں واضح طور پرنظر آرہےہیں۔
کاروباری ماہرین کے مطابق اگر جغرافیائی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج آنے والے ہفتوں میں مزید بہتری کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
