واشنگٹن :سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دھماکہ خیز انٹرویو میں عالمی ایٹمی سیاست پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔انٹرویوکےدوران ٹرمپ نےدعویٰ کیا کہامریکا کے پاس اتنے ایٹمی ہتھیار ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو پوری دنیا کو 150 مرتبہ تباہ کرسکتے ہیں۔ لیکن ہمارا مقصد تباہی نہیں، بلکہ طاقت کا توازن قائم رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنے ایٹمی ذخائر کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ امریکی دفاعی صلاحیت جدید ترین سطح پر برقرار رہے۔
ان کے مطابق، دیگر ممالک کی خفیہ سرگرمیوں کے باعث امریکا کے لیے خاموش رہنا اب ممکن نہیں رہا۔ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک پاکستان، شمالی کوریا، روس اور چین خفیہ طور پر ایٹمی تجربات کر رہے ہیں، جو زمین کی گہرائی میں اتنے پوشیدہ طریقے سے کیے جا رہے ہیں کہ بیرونی دنیا کو محض ایک ہلکی سی لرزش محسوس ہوتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق، یہ تجربات عام سیسمک مانیٹرنگ یا بین الاقوامی نگرانی کے نظاموں سے بھی پوشیدہ رہ سکتے ہیں، اور اسی لیے عالمی برادری کو اس کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملتی۔انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہامریکا کے پاس اتنے ایٹمی ہتھیار ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو پوری دنیا کو 150 مرتبہ تباہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمارا مقصد تباہی نہیں، بلکہ طاقت کا توازن قائم رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنے ایٹمی ذخائر کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ امریکی دفاعی صلاحیت جدید ترین سطح پر برقرار رہے۔
ان کے مطابق، دیگر ممالک کی خفیہ سرگرمیوں کے باعث امریکا کے لیے خاموش رہنا اب ممکن نہیں رہا،ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد چین نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزامات کی سختی سے تردید کی۔چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے۔ ہماری ایٹمی حکمتِ عملی ہمیشہ دفاعی نوعیت کی رہی ہے۔ ہم نہ کسی خفیہ تجربے میں ملوث ہیں اور نہ جارحانہ عزائم رکھتے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ اس طرح کے بے بنیاد بیانات عالمی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بین الاقوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کے الزامات میں کچھ بھی صداقت پائی گئی تو دنیا ایک نئی ایٹمی سرد جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر ایڈورڈ ہنٹر کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کی خفیہ تیاری یا تجربات، چاہے معمولی سطح پر ہی کیوں نہ ہوں، عالمی عدم اعتماد کو جنم دیتے ہیں۔ یہ عمل دنیا کو 1960 کی دہائی کے جیسے خطرناک دور کی طرف واپس لے جا سکتا ہے
دوسری جانب، ماہرینِ سلامتی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان سیاسی دباؤ بڑھانے یا انتخابی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ ماضی میں بھی ایسے بیانات دے کر عالمی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔
بین الاقوامی تنظیموں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑے ممالک ایٹمی تجربات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرتے ہیں تو یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے اصولوں کے منافی ہوگا، اور اس سے عالمی استحکام کو شدید دھچکا لگے گا۔
