بھارتی کاروباری دنیا میں زلزلہ برپا ہو گیا جب مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والے ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے انیل امبانی کے 846 ملین ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے۔ یہ فیصلہ بینک فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا۔ منجمد کیے گئے اثاثوں کی مالیت 75 ارب بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے جن میں دفاتر، رہائشی عمارتیں اور 132 ایکڑ اراضی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے ریلائنس گروپ کی مختلف ذیلی کمپنیوں کو ناجائز مالی فوائد پہنچائے گئے، جو قانون کے مطابق جرم ہے۔
یہ کارروائی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی جانب سے گزشتہ اگست میں درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ انیل امبانی نے مختلف بینکوں سے بھاری قرضے حاصل کیے اور انہیں ذاتی یا غیر متعلقہ منصوبوں میں استعمال کیا۔ انیل امبانی، بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں اور اگرچہ ایک وقت میں وہ ریلائنس گروپ کے شریک وارث تھے، تاہم والد دھیرو بھائی امبانی کی وفات کے بعد تقسیمِ کاروبار کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کے راستے الگ ہو گئے۔ مکیش امبانی کا ریلائنس انڈسٹریز آج دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ انیل امبانی کا ریلائنس گروپ پچھلی دو دہائیوں سے مسلسل خسارے، قرضوں اور قانونی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس انفراسٹرکچر نے اثاثے منجمد کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ان کے کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کمپنی کے ترجمان نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے مطابق اپنا دفاع کریں گے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب انیل امبانی تنازعات میں گھرے ہوں۔ 2018 میں ان کا نام اس وقت سرخیوں میں آیا جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ فرانسیسی رافیل طیاروں کی خریداری کے سودے میں مالی فائدہ حاصل کیا۔ تاہم مودی حکومت اور امبانی دونوں نے ان الزامات کی تردید کی، اور بھارتی سپریم کورٹ نے اس سودے کی تحقیقات کرانے کی درخواست مسترد کر دی۔
ماہرین کے مطابق انیل امبانی کے اثاثے منجمد ہونے سے نہ صرف ان کے کاروباری مستقبل پر سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ اقدام بھارت کے مالیاتی نظام میں احتساب کے ایک نئے باب کا آغاز بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ممبئی اسٹاک ایکسچینج میں ان کی کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ بھارت میں طاقتور کاروباری خاندان بھی قانون سے بالاتر نہیں۔
