نیویارک میں میئر کے انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایلون مسک نے ایک بیلٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ’فراڈ‘ قرار دیا۔ مسک کا کہنا تھا کہ بیلٹ پر سابق گورنر اینڈریو کومو کا نام صرف ایک بار ظاہر ہو رہا ہے، جبکہ مسلم امیدوار ظہران ممدانی کا نام دو مرتبہ درج ہے۔
تاہم نیو یارک سٹی بورڈ آف الیکشنز کے مطابق، بیلٹ پر امیدواروں کے ناموں کی ترتیب اس بنیاد پر طے ہوتی ہے کہ وہ کب اپنی نامزدگی جمع کراتے ہیں۔ مزید برآں، نیو یارک میں ’فیوژن ووٹنگ‘ کا نظام رائج ہے، جس کے تحت ایک امیدوار کو بیک وقت متعدد پارٹیوں کی جانب سے نامزد کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام سے ووٹرز کو یہ سہولت ملتی ہے کہ وہ کسی بڑی جماعت سے وابستگی ظاہر کیے بغیر اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔
ریاستی اسمبلی کے رکن ظہران ممدانی نے نامزدگی کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری میں کامیابی حاصل کی تھی، اس لیے ان کا نام ڈیموکریٹک پارٹی کے تحت درج ہے۔ ساتھ ہی وہ ورکنگ فیملیز پارٹی کے بھی امیدوار ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ووٹرز انہیں کسی ایک پارٹی لائن پر ووٹ دے سکتے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران دونوں لائنز پر دیے گئے ووٹ مجموعی طور پر ممدانی کے حق میں شمار ہوں گے۔
یہ طریقہ کار نیو یارک میں عام ہے اور گزشتہ سال سابق نائب صدر کمالا ہیرس کا نام بھی دو بیلٹ لائنز پر درج تھا، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ریپبلکن اور کنزرویٹو پارٹی دونوں کی لائنز پر موجود تھا۔
اینڈریو کومو کا نام حالیہ انتخابات میں صرف ایک بار ظاہر ہے کیونکہ وہ ڈیموکریٹک پرائمری ہار گئے تھے اور اب صرف اپنی آزاد جماعت ’فائٹ اینڈ ڈیلیور‘ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح، ریپبلکن امیدوار کرسٹس سلیوا بھی دو بار بیلٹ پر ظاہر ہو رہے ہیں، ایک بار ریپبلکن پارٹی کے طور پر اور دوسری بار ’پروٹیکٹ اینیملز‘ پارٹی کے تحت۔
خیال رہے کہ نیویارک میئر کے انتخابات آج ہو رہے ہیں، جس میں مسلمان امیدوار ظہران ممدانی کا مقابلہ سابق گورنر اینڈریو کومو اور ری پبلکن حریف کرسٹس سلیوا سے ہے۔ مختلف سروے پولز کے مطابق ممدانی کی پوزیشن اس وقت مستحکم ہے۔
