واشنگٹن/جوہانسبرگ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس بار ان کا ہدف ہے جنوبی افریقہ۔ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی افریقہ کو جی-20 ممالک کے گروپ سے نکال دینا چاہیے اوروہ خود آئندہ ماہ جوہانسبرگ میں ہونےوالےجی-20 اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ملک کی نمائندگی وہاں نہیں کروں گا۔ جنوبی افریقہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بیان انہوں نے میامی میں امریکن بزنس فورم سے خطاب کے دوران دیا، جہاں انہوں نے جنوبی افریقہ پر ایک بار پھر زمین ضبط کرنے، اقلیتوں سے ناروا سلوک اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ ٹرمپ نے کہا، ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ہم وہاں جائیں جہاں زمین چھینی جا رہی ہے، نسل کشی ہو رہی ہے، اور انصاف کا نام و نشان نہیں؟ یہ ظلم ہے، اور میں اس ظلم کا حصہ نہیں بنوں گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ کو جی-20 کے کسی بھی گروپ میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ عالمی اقتصادی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے نہ صرف سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی بلکہ خود جی-20 کے رکن ممالک میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا کسی ملک کو اس فورم سے نکالنے کی نظیر قائم کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ جی-20 سمٹ رواں ماہ 22 اور 23 نومبر کو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں منعقد ہونے والی ہے، جس میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے رہنما عالمی معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی منصوبوں پر غور کریں گے۔ تاہم، ٹرمپ کے انکار کے بعد امریکی وفد کی شرکت غیر یقینی ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ بھی یاد دلایا کہ انہوں نے رواں سال فروری 2025 میں ایک ایگزیکٹو آرڈر (14204) جاری کیا تھا، جس کے تحت امریکی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ جنوبی افریقہ کے سفید فام باشندوں کی امریکا میں آبادکاری میں مدد کریں ان افراد کو ٹرمپ نے غیر منصفانہ نسلی امتیاز کے شکار افراد” قرار دیا تھا۔ اسی حکم نامے کے تحت جنوبی افریقہ کے لیے امریکی امداد میں بھی نمایاں کمی کی گئی تھی۔
جنوبی افریقی حکومت نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے ٹرمپ کے تمام الزامات کو بنیادی طور پر غلط، گمراہ کن اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔ حکومت کے ترجمان کے مطابق، جنوبی افریقہ میں زمین کی اصلاحات ایک شفاف قانونی عمل کے تحت کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ ہے، نہ کہ کسی نسلی گروہ کو نشانہ بنانا۔ صدر ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ مؤقف نہ صرف امریکہ اور جنوبی افریقہ کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے بلکہ جی-20 کے اندر بھی اختلافات کی نئی لہر جنم دے سکتا ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں یہ بیان ٹرمپ کے عالمی پالیسی وژن کا حصہ ہے، جس میں وہ امریکہ کے مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا پیغام دینا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے عالمی فورمز میں سخت مؤقف ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔
ایک سابق امریکی سفارتکار کے بقول، ٹرمپ کا یہ بیان روایتی سفارت کاری کے برعکس ہے، لیکن یہ انہی کے انداز کی سیاست ہے براہِ راست، جارحانہ اور جذباتی۔ وہ بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرتے ہیں اور خود کو انصاف کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
دوسری طرف، جنوبی افریقہ کے مقامی میڈیا نے ٹرمپ کے بیان کو تضحیک آمیز اور سیاسی مداخلت قرار دیا ہے، جبکہ وہاں کے سیاسی مبصرین کے مطابق، “ٹرمپ کے تبصرے نہ صرف غلط معلومات پر مبنی ہیں بلکہ یہ خود امریکی معاشرتی تضادات کی عکاسی کرتے ہیں۔
جی-20 سمٹ کے قریب آنے کے ساتھ ہی، واشنگٹن اور پریٹوریا کے درمیان بیانات کی اس جنگ نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا امریکہ اپنی نمائندگی کے بغیر اجلاس میں شامل رہ پائے گا یا واقعی ٹرمپ کا بائیکاٹ عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک نیا تنازع کھڑا کرے گا۔
