بیروت:ایک دہائی بعد آخرکار لیبیا کےسابق رہنمامعمرقذافی کے بیٹے کے لیےآزادی کے دروازے کھلنے لگے ہیں۔ لبنانی عدالتی حکام نے نہ صرف اس کے سفر پر عائد پابندی ختم کر دی ہے بلکہ ضمانتی رقم میں نمایاں کمی کر کے اس کی ممکنہ رہائی کی راہ ہموار کر دی ہے۔
عدالتی ذرائع اور قذافی کے وکلا کے مطابق، اس فیصلے کی تصدیق تین عدالتی شخصیات اور ایک سیکیورٹی افسر نے بھی کی ہے، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب قذافی کا بیٹا زرِ ضمانت ادا کرنے کے بعد لبنان سے باہر کہیں بھی جا سکتا ہے، جس کے بعد وہ جلد اپنے خاندان سے جا ملنے کا امکان رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لیبیا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے لبنان کا دورہ کیا اور قذافی کے بیٹے کی رہائی کے لیے بات چیت کی۔ گزشتہ ماہ اکتوبر کے وسط میں ایک لبنانی جج نے گیارہ ملین ڈالر کے بدلے رہائی کا حکم دیا تھا، مگر اس کے ساتھ یہ پابندی برقرار رکھی تھی کہ وہ لبنان سے باہر سفر نہیں کر سکے گا۔
قذافی کے بیٹے کے وکلا نے اس رقم کو "غیرحقیقی اور ناقابلِ برداشت” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کے پاس اتنی بڑی رقم موجود نہیں۔ اس کے بعد عدالت نے فیصلہ بدلتے ہوئے زرِ ضمانت میں 80 ارب لبنانی پاؤنڈ (تقریباً ایک لاکھ امریکی ڈالر) کی کمی کر دی، جس کے بعد رہائی کا امکان قریب آ گیا ہے۔
لبنانی ذرائع کے مطابق، قذافی کے بیٹے کو گزشتہ دس برس سے بغیر کسی باضابطہ مقدمے کے قید میں رکھا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ 1978 میں لاپتہ ہونے والے معروف شیعہ عالم موسیٰ الصدر کے بارے میں معلومات رکھتا ہے۔ تاہم، دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت قذافی کا بیٹا صرف تین سال کا تھا۔
دو سال قبل اس کی صحت بگڑنے اور بھوک ہڑتال کے بعد اسے کچھ عرصے کے لیے جیل سے باہر منتقل کیا گیا تھا، جس سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں میں ہلچل مچ گئی تھی۔
موسیٰ الصدر کے خاندان کا اب بھی ماننا ہے کہ وہ شاید زندہ ہوں اور کہیں قید میں ہوں۔ اگر ایسا ہے تو ان کی عمر اب 96 سال ہو چکی ہوگی۔ تاہم، لبنانی حکام کے مطابق قذافی کے بیٹے کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے، یہی وجہ ہے کہ اب اس کی رہائی ناگزیر نظر آ رہی ہے۔
قذافی خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق، رہائی کے بعد وہ ممکنہ طور پر شمالی افریقہ میں اپنے خاندان کے دیگر افراد سے جا ملے گا۔
