سعودی عرب ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے جہاں غیر ملکیوں کو ملک میں جائیداد رکھنے کی اجازت ایک منظم اور قانونی طریقے سے دی جائے گی۔ نیا "غیر سعودیوں کی جائیداد کی ملکیت کا قانون” جولائی 2025 میں منظور کیا گیا تھا اور یہ جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ قانون سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت ہونے والی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا، شفافیت کو فروغ دینا اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ ماحول تیار کرنا ہے۔ اس قانون کی نگرانی اور عمل درآمد ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی (REGA) کرے گی جو ملک میں جائیداد کی خرید و فروخت اور غیر ملکی ملکیت کے تمام معاملات کی نگران ادارہ ہے۔
اس قانون کا بنیادی مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھولنے کے ساتھ ساتھ قومی مفادات اور سماجی توازن کو محفوظ رکھنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم صرف سرمایہ لانے کے لیے نہیں بلکہ ایک شفاف نظام قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس میں ہر خریدار کی شناخت، مالی حیثیت اور جائیداد کی تفصیلات مکمل طور پر ریکارڈ پر ہوں گی تاکہ ناجائز ذرائع سے سرمایہ کاری یا منی لانڈرنگ کا راستہ بند کیا جا سکے۔
نئے قانون کے تحت پانچ اقسام کے غیر سعودی افراد یا ادارے جائیداد کے مالک بن سکیں گے۔ ان میں وہ غیر ملکی شامل ہیں جو سعودی عرب میں قانونی طور پر مقیم ہیں اور رہائشی گھر خریدنا چاہتے ہیں، بیرونِ ملک قائم کمپنیاں جو تجارتی یا صنعتی مقاصد کے لیے زمین حاصل کرنا چاہتی ہیں، وہ سعودی کمپنیاں جن میں غیر ملکی شیئر ہولڈر موجود ہیں، بین الاقوامی غیر منافع بخش ادارے، اور غیر ملکی سفارتی مشن جو اپنے دفاتر یا سفارت خانوں کے لیے جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان تمام زمروں کے لیے الگ الگ ضابطے بنائے جا رہے ہیں جو ریئل اسٹیٹ اتھارٹی 2025 کے اختتام تک جاری کرے گی۔
اس قانون کی سب سے اہم خصوصیت "جغرافیائی زوننگ” ہے، یعنی غیر ملکی صرف مخصوص علاقوں میں ہی جائیداد خرید سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک تفصیلی نقشہ اور رہنما دستاویز تیار کی جا رہی ہے جس میں ریاض، جدہ، مکہ، مدینہ اور دیگر شہروں کے وہ علاقے واضح کیے جائیں گے جہاں غیر ملکیوں کو ملکیت یا کرایے کے حقوق حاصل ہوں گے۔ اس نقشے میں ہر علاقے میں غیر ملکی ملکیت کا زیادہ سے زیادہ تناسب، جائیداد کی نوعیت (مکمل ملکیت، لیز یا استعمال کا حق) اور ملکیت کی مدت کے قواعد شامل ہوں گے۔
مکہ اور مدینہ جیسے حساس شہروں میں غیر ملکی ملکیت پر سخت پابندیاں برقرار رہیں گی، البتہ نئی پالیسی کے تحت کچھ رعایت دی گئی ہے۔ وہ سرکاری طور پر رجسٹرڈ سعودی کمپنیاں جن میں غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہوں گے، مخصوص ترقیاتی منصوبوں کے لیے وہاں زمین حاصل کر سکیں گی۔ یہ اجازت محدود پیمانے پر ہوگی اور اس پر حکومتی نگرانی سخت رکھی جائے گی تاکہ ان مقدس مقامات کی روحانی حیثیت متاثر نہ ہو۔
غیر ملکی افراد اور کمپنیاں مختلف مقاصد کے لیے جائیداد حاصل کر سکیں گی، جیسے رہائشی مکانات، کاروباری عمارتیں، صنعتی منصوبے، یا سیاحت سے منسلک منصوبے مثلاً ہوٹل اور ریزورٹس۔ تاہم ہر خریداری کے لیے بلڈنگ کوڈ، بلدیاتی قواعد، ماحولیاتی اصول اور شہری منصوبہ بندی کے ضوابط پر عمل لازمی ہوگا۔
ملکیت کے تمام معاملات کو باقاعدہ طور پر رجسٹر کرانا لازمی ہوگا۔ ہر غیر ملکی خریدار کو اپنی جائیداد ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی کے ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے رجسٹر کرانا ہوگی۔ یہ نظام ابشر اور نجیز جیسی سرکاری ای سروسز کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ تمام پراپرٹی کی تفصیلات آن لائن ریکارڈ پر موجود ہوں۔ جو جائیداد بغیر رجسٹریشن کے یا جعلی معلومات کے ذریعے حاصل کی جائے گی، اسے غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔
غیر ملکی خریداروں کے لیے مالی ذمہ داریاں بھی واضح کر دی گئی ہیں۔ جائیداد کی خرید و فروخت پر 10 فیصد تک ٹیکس اور فیس عائد کی جائے گی جس میں ٹرانزیکشن ٹیکس اور رجسٹریشن چارجز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص کیسز میں اضافی فیس بھی لی جا سکتی ہے۔ اس کا مقصد سرکاری آمدن میں اضافہ کرنا اور جائیداد کی غیر سنجیدہ یا قیاس آرائی پر مبنی خرید و فروخت کو روکنا ہے۔
اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرے — جیسے غلط معلومات فراہم کرے، مقررہ ملکیت حد سے تجاوز کرے یا غیر قانونی طریقے سے زمین حاصل کرے — تو اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ جرمانہ ایک کروڑ سعودی ریال (SR 10 million) تک ہو سکتا ہے اور ایسے معاملات میں جائیداد ضبط کر کے عوامی نیلامی میں فروخت کر دی جائے گی۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ قانون کا غلط استعمال نہ ہو اور نظام میں مکمل شفافیت برقرار رہے۔
ماہرین کے مطابق اس قانون کے نفاذ سے سعودی عرب کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے محدود مگر منظم داخلے سے مارکیٹ میں سرمایہ کی روانی بڑھے گی، تعمیراتی معیار میں بہتری آئے گی اور عالمی ڈیولپرز سعودی مارکیٹ میں دلچسپی لیں گے۔ یہ قانون وژن 2030 کے تحت چلنے والی نیشنل انویسٹمنٹ اسٹریٹجی کے مقاصد سے مطابقت رکھتا ہے جس کا ہدف غیر تیل شعبوں سے آمدن بڑھانا اور سعودی شہروں کو عالمی سرمایہ کاری کے مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔
ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ قانون کے تمام ضوابط، نقشے اور درخواست کے طریقہ کار جنوری 2026 سے پہلے جاری کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد سعودی عرب پہلی بار غیر ملکیوں کے لیے جائیداد کی ملکیت کا ایک واضح، محفوظ اور قانونی راستہ فراہم کرے گا۔ یہ قدم ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں سعودی عرب دنیا کے سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھول رہا ہے مگر اپنی خودمختاری، ثقافتی شناخت اور سماجی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے۔
