اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو عام قیدیوں کے مقابلے میں غیر معمولی آسائشیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
سینیٹر درانی کے مطابق، عمران خان کو جیل میں آٹھ کمرے اور آٹھ مشقتی فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ کسی دوسرے سیاسی یا عام قیدی کو ایسی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو ناشتہ میں دیسی مرغی اور شہد فراہم کیا جاتا ہے اور انہیں جیم اور لائبریری تک رسائی بھی حاصل ہے۔
انہوں نے سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے دورِ قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے لیے ایک وقت میں اسٹینڈنگ آرڈر جاری تھا کہ ان کے سیل کے فرش پر چینی ڈالی جائے تاکہ چیونٹیاں اور کیڑے مکوڑے آئیں اور انہیں اذیت دی جائے، مگر آج عمران خان کو جیل میں وی آئی پی سہولیات حاصل ہیں۔
سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں متعدد سیاستدان قید و بند کی مشکلات برداشت کر چکے ہیں، لیکن کسی کو بھی ایسی سہولیات میسر نہیں ہوئیں جیسی عمران خان کو دی جا رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ فرق اور امتیاز عام قیدیوں کے ساتھ انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
سینیٹر درانی کے بیانات سے جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے معاملے پر سیاسی بحث نے شدت اختیار کر لی ہے، اور یہ معاملہ نہ صرف حکومت کی جیل پالیسی بلکہ ملکی سیاسی منظرنامے میں بھی ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں بعض حلقے اسے قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ عمران خان کی سہولیات کو سیکیورٹی اور انفرادی حالات کے مطابق جائز قرار دے رہے ہیں۔
