لاہور: پاکستان کی نامور ماہرِ تعلیم، محققہ، ادیبہ اور فکری رہنما پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا لاہور میں انتقال ہو گیا، جس کی خبر نے ملکی علمی و ادبی حلقوں میں غم و رنج کی لہر دوڑا دی۔ معروف ڈرامہ نگار اور شاعر اصغر ندیم سید نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نہ صرف ایک روشن دماغ اور مؤثر فکری آواز رکھتی تھیں بلکہ اردو زبان و تہذیب کی متحرک ترجمان بھی تھیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو اور یونیورسٹی آف ہوائی سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فارمن کرسچن کالج میں پروفیسر رہیں اور بعد میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی پرنسپل بھی منتخب ہوئیں۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ نے تدریس کے علاوہ سماجی، ثقافتی اور فکری مکالمے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ خواتین کے حقوق کے قومی کمیشن کی چیئرپرسن اور پنجاب کی نگران صوبائی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ ان کی علمی بصیرت 7 زبانوں پر عبور، تہذیبی شعور اور فہم و فراست سے آراستہ تھی، اور انہوں نے اپنی زندگی کو تعلیم، تحقیق، خواتین کے حقوق اور قومی زبان کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔
ان کے لیکچرز، خطابات اور مکالمے نسل نو کے لیے روشنی کا مینار بنے رہیں گے۔ ادبی و علمی حلقوں نے ان کے انتقال کو علم و فہم کے ایک عہد کا خاتمہ‘‘ قرار دیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ صدر نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحومہ نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق، تدریس اور خدمتِ انسانیت کے لیے وقف کی، اور ان کی علمی خدمات اور قومی زبان کے فروغ کے لیے کوششیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اہلِ خانہ، شاگردوں اور علمی برادری سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کی روشنی پاکستان کے ہر علمی و فکری حلقے میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
