اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر کارروائی کرتی ہے تو پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے کیونکہ امن ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو متعدد بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہماری افواج نے پیشہ ورانہ مہارت سے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا۔
شہباز شریف نے مئی میں بھارت کی جانب سے کی گئی حملے اور بعد میں افغانستان کی سرحدی پوسٹوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ان حملوں کا ٹھوس اور فیصلہ کن جواب دیا۔ انہوں نے عالمی تناظر میں امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں جاری جنگیں امن کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی کی حمایت امن قائم نہیں کر سکتی، لہٰذا دیگر عسکری گروہوں کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے، اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان ہر ممکن تعاون کرے گا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے بین الاقوامی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ آج اسلام آباد میں شروع ہونے والی بین الپارلیمانی کانفرنس میں سعودی عرب، فلسطین، مراکش، کینیا، روانڈا، مالدیپ، ملائیشیا، فلپائن، الجیریا، بارباڈوس اور سربیا کے وفود شریک ہیں، اور یہ کانفرنس کل تک جاری رہے گی۔ پیر کو سعودی عرب اور دیگر ممالک کے وفود کا اسلام آباد ایئرپورٹ پر سینیٹر ندیم احمد بھٹو اور سینیٹ سیکریٹریٹ کے سینیئر حکام نے استقبال کیا۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی عرب کے وفد کی سربراہی نائب چیئرمین شوریٰ کونسل عبداللہ بن عدم فلاتعہ کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس عالمی امن اور باہمی تعاون کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔
