دبئی: بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارہ تیجس کا دبئی ایئر شو کے دوران حادثے کا معاملہ بھارت میں ہنگامہ خیز بحث کا موضوع بن گیا ہے، اور بھارتی میڈیا نے اس حادثے کی ذمہ داری امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک اور امریکی حکومت پر ڈالنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ بھارتی (ر) میجر جنرل جی ڈی بخشی اور معروف اینکر ارنب گوسوامی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے جی ای 404 انجن کی تاخیر سے فراہمی نے بھارت کی دفاعی تیاری میں خلا پیدا کیا اور حادثے کا ایک اہم سبب بنی۔
ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک بھارت کی حمایت کرنے میں کبھی دوستانہ رویہ نہیں رکھتی اور ایل سی اے پروگرام اور تیجس کو خطرہ سمجھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیجس کی 53 اہم خامیوں کی نشاندہی بھی حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کی گئی ہے، جس سے بھارتی دفاعی تیاری کی کمزوری واضح ہو گئی ہے۔
بھارتی (ر) میجر جنرل جی ڈی بخشی نے اس موقع پر بتایا کہ جی ای 404 انجن بھارت کو دو سال قبل مل جانا چاہیے تھا، اور بھارت نے اس کے لیے ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کر دی تھی، لیکن اب تک صرف دو انجن فراہم ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں ایسے تاخیر اور ناکامی کے اثرات بھارتی فضائیہ کے لیے سنگین ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر فضائی مظاہروں اور دفاعی مشنز کے دوران۔
واضح رہے کہ دبئی ایئر شو میں تیجس حادثہ ایک حیران کن واقعہ تھا، جہاں طیارہ فضائی مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہوگیا اور پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس حادثے نے بھارت میں دفاعی تیاری، انجن کی فراہمی اور فضائیہ کی حفاظتی معیار پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے سے بھارتی دفاعی منصوبوں میں ممکنہ کمزوریوں اورغیر یقینی صورتحال کابھی اندازہ ہوتا ہے،اورامریکی کمپنیوں کےساتھ دفاعی معاہدوں میں شفافیت اور وقت پرفراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے
