سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے لاہور میں انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حالات درست نہیں، معیشت بیٹھ چکی ہے اور جب تک سیاسی بحران ختم نہیں ہوگا، حالات میں بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے دعوے اور اقدامات عملی طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اسد عمر نے حکومت کی جانب سے معیشت کے لیے بنائی گئی آٹھ کمیٹیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے ٹریفک قوانین کے نفاذ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ غریب موٹر سائیکل سواروں پر سختی سے چالان کیے جا رہے ہیں، لیکن طاقتور افراد پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جو دوہرے معیار کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے بھارت کے ساتھ تعلقات اور حالیہ سفارتی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو سخت جواب دیا اور اس معاملے میں کامیابی حاصل کی، جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرونی حالات اب بھی تشویشناک ہیں اور معیشت بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔
اسد عمر نے حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ساڑھے تین سال ضائع کر دیے ہیں، اور اب سب کو مل کر سیاسی بحران کے حل کے لیے بیٹھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کو ختم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور یہی ملک کی ترقی، معیشت کی بحالی اور معاشرتی استحکام کی کلید ہے۔
سابق وفاقی وزیر کی یہ بیان بازی ملک میں سیاسی عدم استحکام، اقتصادی چیلنجز اور حکومتی ناکامیوں کے حوالے سے اہم تناظر فراہم کرتی ہے اور عوامی و سیاسی حلقوں میں بحث و مباحثے کو مزید ہوا دے رہی ہے۔
