تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان متنازع سرحدی علاقوں میں دوبارہ خونریز کشیدگی شروع ہو گئی ہے، جب تھائی فوج نے فضائی حملے کیے۔ تھائی فوج کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب کمبوڈین فوج نے سرحدی علاقے میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مشرقی صوبے اوبون رتھچاتھانی کے دو علاقوں میں جھڑپوں کے دوران کم از کم ایک تھائی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد تھائی فضائیہ نے مختلف مقامات پر کمبوڈین فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
تھائی فوج نے دعویٰ کیا کہ کمبوڈیا کی جانب سے بی ایم 21 راکٹ تھائی شہری علاقوں کی طرف داغے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے الزام عائد کیا کہ تھائی فوج نے دو مقامات پر علی الصبح حملے کیے، تاہم ان کے فوجیوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔
کمبوڈیا کے سابق وزیر اعظم اور موجودہ وزیراعظم کے والد ہُن سین نے تھائی فوج کو جارحیت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کمبوڈین افواج کو تحمل کا مشورہ دیا ہے۔ یہ کشیدگی جولائی میں پانچ روزہ خونریز جھڑپوں کے بعد ختم ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے فوراً بعد پیدا ہوئی، جس میں 48 افراد ہلاک اور تقریباً تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔
تھائی لینڈ نے گزشتہ ماہ ایک دھماکے میں اپنے ایک فوجی کے زخمی ہونے کے بعد جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ موجودہ کشیدگی کے پیش نظر تھائی لینڈ کے چار سرحدی اضلاع سے ساڑھے تین لاکھ سے زائد شہریوں کا انخلا شروع کر دیا گیا ہے، جن میں سے 35 ہزار سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 817 کلومیٹر طویل سرحد گزشتہ 100 برس سے تنازعات کا مرکز رہی ہے، جو وقتاً فوقتاً خونریز جھڑپوں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور اس بار بھی حالات خطرناک حد تک کشیدہ ہیں۔
