واشنگٹن میں ہونے والے اہم اجلاس میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1 ارب 20 کروڑ ڈالرکی نئی قسط کی منظوری دے دی، جس کے ساتھ ملکی معیشت کے استحکام کے سفر میں ایک اور سنگِ میل عبور ہوا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت دوسرے جائزے کی منظوری دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک ارب ڈالر فوری طور پر جاری ہوں گے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ لچک اور استحکام سہولت (RSF) کے پہلے جائزے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت پاکستان کو 200 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلاب جیسی تباہ کن صورتحال کے باوجود ملک نے استحکام برقرار رکھا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے 2025 کے مالی سال میں 1.3 فیصد بنیادی سرپلس حاصل کیا، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، حالیہ مہنگائی میں اضافہ عارضی قرار دیا گیا
آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ٹیکس اصلاحات، توانائی سیکٹر میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری اور گورننس میں بہتری جیسے اقدامات جاری رکھے۔ ساتھ ہی ادارے نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجزسے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ذرائع کے مطابق 7 ارب ڈالر کے EFF پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک دو اقساط مل چکی ہیں، جبکہ تازہ منظوریوں کے بعد دونوں قرض پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر 3.3 ارب ڈالرجاری ہو جائیں گے۔حکومت کی جانب سے بھی اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
