لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نور محمد بسمل کے چیمبر سے دو سیب اور ایک بوتل ہینڈ واش چوری ہونے کے غیر معمولی واقعے کے بعد تھانہ اسلام پورہ میں ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ عدلیہ اور شہری حلقوں میں حیرت و دلچسپی کا سبب بنا ہے کیونکہ جج کے چیمبر سے معمولی اشیاء کی چوری بھی ایک سنگین نوعیت کے انتظامی اور سیکیورٹی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد فوری طور پر چیمبر کی سیکیورٹی اور داخلی راستوں کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں کے بیانات حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مشتبہ افراد کی شناخت کی جا سکے اور چوری شدہ اشیاء کی بازیابی ممکن ہو سکے۔
عدالتی عملے نے بتایا کہ چیمبر کے اندر کسی غیر متوقع شخص کی موجودگی کا امکان نہیں تھا، جس سے یہ چوری مزید پراسرار اور تشویشناک ہو گئی ہے۔ پولیس نے کہا کہ چھوٹی نوعیت کی یہ چوری بھی عدلیہ میں داخلی حفاظت اور انتظامی ذمہ داریوں کے لیے ایک انتباہ ہے، اور اسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ چوری کا تعلق محض معمولی اشیاء سے ہے یا یہ کسی بڑی منصوبہ بندی یا داخلی خلاف ورزی کی ابتدا ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ چوری شدہ سیب اور ہینڈ واش کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور عدالت کے تمام عملے کو مشکوک سرگرمیوں سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اس عجیب و غریب واقعے نے نہ صرف عدلیہ بلکہ عوام میں بھی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے غیر متوقع واقعات سے عدالتی عملے اور سیکیورٹی اداروں کے داخلی نظام کی کمزوریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
فی الحال پولیس کسی گرفتار شدہ یا مشتبہ شخص کے بارے میں حتمی اعلان نہیں کر سکی، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ زاویوں سے چوری کے محرکات اور مشتبہ افراد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
