انقرہ: ترکیہ نے اپنے روس سے حاصل کردہ جدید S-400 فضائی دفاعی نظام سے متعلق تمام افواہیں یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ یہ نظام کسی تیسرے ملک کو منتقل کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ ترک حکام کے مطابق نہ بھارت، نہ امریکہ اور نہ ہی کوئی دوسرا ملک اس دفاعی ٹیکنالوجی کا حصہ بنے گا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ترکیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ S-400 نظام ترکیہ کی قومی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی جزو ہے اور اسے کسی صورت شیئر نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے کہا کہ یہ نظام ترکیہ کی فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اس لیے اسے دیگر ممالک کو منتقل کرنے پر کوئی بات چیت بھی نہیں ہو رہی۔
ترکیہ کے اس بیان کے بعد بھارتی میڈیا میں گردش کرنے والی تمام تر قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ انقرہ ممکنہ طور پر S-400 سسٹم نئی دہلی کو فراہم کرسکتا ہے۔ ترکیہ نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ اس معاہدے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی پر سخت شرائط موجود ہیں، اور کسی تیسرے ملک کو فراہمی روسی قوانین کے بھی خلاف ہے۔
عالمی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ کے اس اعلان نے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق پھیلنے والی غلط فہمیاں ختم کر دی ہیں، جبکہ بھارت کے لیے روس سے حاصل کیے گئے اپنے S-400 نظام کے علاوہ کسی اضافی سپلائی کی توقع بھی ختم ہوگئی ہے۔
