معرکۂ حق میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ذلت آمیز شکست بھارتی تاریخ کے ان واقعات میں شامل ہو چکی ہے جنہیں مودی سرکار جتنا بھی چھپانے کی کوشش کرے، سچ خود زبان بن کر سامنے آ رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے گمراہ کن اور یکطرفہ پروپیگنڈے کے باوجود، اب خود بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت ایک ایک کر کے اپنی عبرتناک ناکامی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے ایک غیر معمولی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے پہلے ہی دن بھارت کو مکمل پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق 7 مئی کو ہونے والی فضائی جھڑپ کے دوران محض آدھے گھنٹے میں پاکستان نے بھارتی فضائیہ کو فیصلہ کن شکست دے دی۔
پرتھوی راج چوہان کے مطابق،بھارتی طیاروں کے گرائے جانے کے بعد صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ پوری ایئر فورس کو گراؤنڈ کرنا پڑا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ بھٹنڈہ سمیت کسی بھی ایئربیس سے طیارے اڑانے کی جرات نہ کی جا سکی۔
یہ اعتراف اس بھارتی دعوے کی مکمل نفی ہے جس میں مودی سرکار مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی رہی کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے۔
عسکری قیادت کے اعترافات نے مودی بیانیہ زمین بوس کر دیا
صرف سیاسی اپوزیشن ہی نہیں، بلکہ بھارتی عسکری قیادت بھی اب مودی حکومت کے سب اچھا ہے کے بیانیے کی قلعی کھول چکی ہے۔بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے 31 مئی کو ایک مبہم مگر معنی خیز بیان میں کہا کہ یہ اہم نہیں کہ کتنے طیارے گرے، اصل سوال یہ ہے کہ وہ گرے کیوں؟
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ بیان دراصل بھارتی فضائیہ کے بھاری نقصانات کا بالواسطہ اعتراف تھا۔اسی طرح ایئر مارشل اے کے بھارتی نے بھی جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی تصدیق کر کے مودی حکومت کے دعوؤں کو مشکوک بنا دیا۔
دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بھی ‘آپریشن سندور’ میں بھارتی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہوئے سوال اٹھا چکے ہیں کہ قوم سے سچ کیوں چھپایا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر بھی بھارت کو سبکی کا سامناکرناپڑاہےمودی سرکار کو صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں، جسے عالمی میڈیا نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ یہ بیانات بھارت کے لیے سفارتی محاذ پر ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق،پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی یہ تاریخی عسکری ہزیمت مودی کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گی، کیونکہ حقائق کو جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جائے، وہ بالآخر سامنے آہی جاتے ہیں۔
معرکۂ حق نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جنگی محاذ پر برتری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، نہ کہ میڈیا پروپیگنڈا اور سیاسی نعروں کی گونج
