نیویارک /غزہ:اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ انسانی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے اور بڑے پیمانے پر خطرات بدستور موجود ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ غزہ میں اگست میں اعلان کیا گیا قحط اب انسانی امداد کی بہتر رسائی کے باعث ختم ہو چکا ہے۔ امدادی سامان کی فراہمی میں بہتری کے بعد غذائی صورتحال میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم مکمل استحکام تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔
اقوام متحدہ کے فوڈ سکیورٹی سے متعلق مانیٹرنگ ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں خوراک کی دستیابی اور رسائی میں بہتری آئی ہے، لیکن لاکھوں افراد اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق غزہ کی 70 فیصد سے زائد آبادی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہے، جبکہ سردیوں کے موسم میں ہونے والی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث بھوک اور غذائی قلت کے خطرات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی کو اب بھی ایمرجنسی فوڈ سکیورٹی درجہ بندی میں شامل رکھا گیا ہے، تاہم موجودہ تجزیے کے مطابق غزہ کے کسی بھی علاقے کو اپریل 2026 تک قحط کی درجہ بندی میں شامل نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی امداد کی فراہمی کو مزید وسعت دے، بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں مدد کرے اور غزہ کے عوام کو مستقل بنیادوں پر غذائی تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے، تاکہ صورتحال دوبارہ قحط کی جانب نہ جا سکے۔
