اسلام آباد / لیون:انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی ذلفی بخاری کے خلاف جاری تفتیش باضابطہ طور پر ختم کر دی ہے، جبکہ ان کے خلاف جاری ریڈ نوٹس بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ذلفی بخاری کے لیے ایک بڑی قانونی اور سیاسی کامیابی قراردیا جارہاہے۔
انٹرپول کی جانب سے ذلفی بخاری کے وکلا کو خط کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف دائر درخواست، وکلا کے تفصیلی دلائل اور پاکستانی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا مکمل جائزہ لینےکےبعد یہ نتیجہ اخذکیا گیاکہ معاملہ انٹرپول کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا، لہٰذا تفتیش ختم اور ریڈ نوٹس منسوخ کیا جارہاہے۔
انٹرپول کے مؤقف کے مطابق کیس میں ایسے شواہد یا قانونی نکات سامنے نہیں آئے جو بین الاقوامی پولیس تعاون کے تحت کسی کارروائی کو جائز قرار دیں۔ ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انٹرپول کا نظام سیاسی نوعیت کے معاملات میں استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور اسی اصول کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس کی منسوخی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ذلفی بخاری کے خلاف الزامات بین الاقوامی قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ اس فیصلے کے بعد ذلفی بخاری کو بین الاقوامی سفر اور قانونی حیثیت کے حوالے سے درپیش رکاوٹیں بھی ختم ہو گئی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم اخلاقی اور قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ذلفی بخاری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو انصاف کی فتح سمجھتے ہیں اور آئندہ دنوں میں اس پر تفصیلی ردعمل بھی سامنے آئے گا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں سیاسی ماحول پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے، اور مبصرین کے مطابق انٹرپول کا یہ اقدام ملکی سیاست میں ایک نئے بیانیے کو جنم دے سکتا ہے۔
