ملتان: پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شام لال منگلانی نے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (KCA) کی تاریخی عمارت کی مسلسل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے دعوے کپاس کی پیداوار اور زرِ مبادلہ کمانے والی فصل کے فروغ کے حوالے سے تضاد کا شکار ہیں، کیونکہ کپاس کی تجارت کے سب سے اہم ادارے کو غیر فعال رکھا جانا ایک واضح بے حسی اور تضاد ہے۔
شام لال منگلانی کے مطابق کراچی کاٹن ایسوسی ایشن صرف ایک عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی کپاس کی قیمتوں، شفاف تجارت اور مارکیٹ ڈسپلن کی علامت ہے۔ کے سی اے کے جاری کردہ ڈیلی اسپاٹ ریٹ پورے کاٹن سیکٹر کے لیے ریفرنس پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر جنرز، ٹریڈرز، ملز، بینک اور انشورنس کمپنیاں انحصار کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاٹن ایکسچینج کی بندش سے نہ صرف کپاس کی آزاد اور شفاف قیمت کا نظام متاثر ہوا ہے بلکہ جنرز، بروکرز اور چھوٹے تاجروں کا روزگار بھی شدید دباؤ میں آ گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی کپاس کی پیداوار میں کمی، درآمدی دباؤ اور عالمی منڈی میں مسابقت جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، یہ فیصلہ صورتحال کو مزید بگاڑ رہا ہے۔
شام لال منگلانی نے یاد دلایا کہ کاٹن ایکسچینج کی عمارت 1940 سے پاکستان کی کاٹن اکانومی کا مرکز رہی ہے، اور اس ادارے کو کمزور کرنا درحقیقت پوری کاٹن ویلیو چین کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی کپاس کو اس کا کھویا ہوا مقام دلانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اس کے بنیادی اداروں کو فعال بنانا ہوگا۔
چیئرمین PCGA نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی عمارت کو فوری طور پر ڈی سیل کر کے اسے اس کے اصل کردار کے ساتھ بحال کیا جائے، تاکہ کپاس کی تجارت میں اعتماد، شفافیت اور تسلسل دوبارہ قائم ہو سکے۔ شام لال منگلانی نے زور دیا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن، کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے ساتھ کھڑی ہے اور کپاس کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی آواز کو نظر انداز کرنے کے نتائج ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
