اسلام آباد: پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان اسلام آباد، تہران اور استنبول کو ملانے والی مال بردار فریٹ ٹرین سروس کا آغاز ایک بار پھر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے کے حکام کے مطابق اس مؤخر ہونے کی بنیادی وجہ ضروری سیکیورٹی کلیئرنس کا نہ ملنا ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ سروس تینوں ممالک کے درمیان تجارتی رابطوں کو مستحکم کرنے اور سامان کی ترسیل کو کم وقت اور کم لاگت میں ممکن بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ اس سروس کے ذریعے تاجروں کو نہ صرف براہِ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ خطے میں تجارتی تعاون اور اقتصادی ہم آہنگی کو بھی فروغ ملے گا۔
ڈی ایس ریلوے نے بتایا کہ جیسے ہی سیکیورٹی کلیئرنس مکمل ہوگی، ٹرین سروس کا آغاز فوری طور پر عملی شکل اختیار کرے گا اور نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ حکام نے اس منصوبے کو خطے میں اقتصادی رابطہ کاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے، جو تینوں ممالک کی معیشت اور تجارت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری نے اس سال مال بردار فریٹ ٹرین سروس کو دوبارہ بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے ریلوے کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صنعت، تجارت، اور سرمایہ کاری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور تینوں ممالک کے تاجروں کو براہِ راست فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ خطے کی معاشی ہم آہنگی اور خوشحالی کو بھی مستحکم کرے گا۔
