نئے عیسوی سال کے آغاز کے موقع پر افریقی ملک گھانا میں ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت سامنے آیا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لے لیا جو خود کو نبی قرار دے رہا تھا۔ یہ گرفتاری یکم جنوری کی رات عمل میں آئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس کی متعدد ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ شخص کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں اور پولیس اہلکار اسے اپنی تحویل میں لیے ہوئے ہیں، جس نے عوامی توجہ کو اپنی جانب مبذول کر لیا۔
گھانا کی پولیس کے مطابق اس شخص نے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر ایسے دعوے کیے تھے جنہیں حکام نے مشکوک اور عوام کو گمراہ کرنے والا قرار دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس پر فراڈ، دھوکا دہی اور عوامی امن کو متاثر کرنے جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ پولیس حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جس شخص کو عرف عام میں ’’ایبو نوح‘‘ کہا جا رہا تھا، اس کا اصل نام ایوانز ایشون ہے، اور وہ اپنے اصل تعارف کو چھپا کر مذہبی جذبات کو استعمال کر رہا تھا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات انتہائی حساس نوعیت کی ہیں، اسی لیے تاحال تمام تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ حکام کے مطابق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک اس کیس کو رازداری میں رکھا جائے گا، تاکہ کسی بھی قانونی پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ پولیس نے عندیہ دیا ہے کہ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھے گی، مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ایبو نوح پر متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں جھوٹا دعویٰ نبوت، عوامی نظم و ضبط کو نقصان پہنچانا، دھوکا دہی کے ذریعے لوگوں سے پیسے بٹورنا، مشتبہ مالی سرگرمیاں اور معاشرتی امن کو خطرے میں ڈالنا شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر عدالت میں یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اسے سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق الزامات کی تصدیق کی صورت میں ایبو نوح کو طویل قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے جو 25 سال تک ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس پر بھاری مالی جرمانہ بھی عائد کیے جانے کا امکان ہے، جس کی مالیت تقریباً 35 لاکھ گھانین سیڈی بتائی جا رہی ہے۔ یہ رقم سعودی کرنسی میں لگ بھگ بارہ لاکھ پچاس ہزار ریال کے برابر بنتی ہے، جو اس کیس کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ایبو نوح نے اپنے پیروکاروں کو یہ باور کرایا تھا کہ دنیا ایک بڑے عالمی طوفان کے دہانے پر کھڑی ہے، جو تمام انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس نے اس مبینہ آفت کی تاریخ 25 دسمبر مقرر کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ صرف وہی لوگ محفوظ رہ سکیں گے جو اس کے بتائے گئے منصوبے پر عمل کریں گے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات سے پتا چلتا ہے کہ اس کے دعوؤں پر یقین کرنے والے درجنوں افراد نے اپنی جمع پونجی اور ذاتی سامان فروخت کر دیا۔ یہ افراد ان مخصوص مقامات کی طرف روانہ ہوئے جن کا تعین ایبو نوح نے کیا تھا، اور انہوں نے کشتیوں میں جگہ حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ بعض لوگوں نے تو اپنے گھروں اور کاروبار تک چھوڑ دیے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ ایک عظیم آفت سے بچنے جا رہے ہیں۔
بعد ازاں ایک اور ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں ایبو نوح نے اچانک اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے دنیا کے خاتمے کی تاریخ مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے وحی کے ذریعے مزید مہلت دی گئی ہے، تاکہ انسانوں کو نجات کا ایک اور موقع فراہم کیا جا سکے۔ اس کے مطابق اسے ہدایت دی گئی تھی کہ مزید کشتیاں تیار کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے منصوبے میں شامل کیا جا سکے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایبو نوح نے اپنے ماننے والوں سے بھاری رقوم وصول کیں اور انہیں یقین دلایا کہ یہ رقم ایسی دیوہیکل کشتیوں کی تیاری پر خرچ کی جائے گی جو ہزاروں افراد کو ڈوبنے سے بچا سکیں گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان مالی لین دین کا ریکارڈ بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جمع کی گئی رقوم کہاں استعمال ہوئیں۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح بعض عناصر مذہبی جذبات کو ہتھیار بنا کر سادہ لوح افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ گھانا کی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے دعوؤں پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے ہوشیاری سے کام لیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں، تاکہ معاشرے کو ایسے فتنوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
