یمن کے علیحدگی پسند گروپ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) نے ملک میں جنوبی ریاست کے قیام کے لیے ایک دو سالہ منصوبے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے یمن کی پہلے سے پیچیدہ سیاسی اور عسکری صورتحال میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔
ایس ٹی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ جنوبی یمن کے لیے نیا آئین اپنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یمن سے علیحدگی نہیں بلکہ جنوبی خطے کی مکمل خودمختاری اور ریاستی تشخص کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
علیحدگی پسند قیادت نے جنوبی ریاست کے قیام کے حوالے سے ریفرنڈم کرانے کے ارادے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے عوامی رائے معلوم کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز یمن میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے کم از کم 7 جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حوالے سے ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے ایس ٹی سی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملے سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کی جانب سے کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ ایس ٹی سی کی جانب سے صوبہ حضرموت اور المہرہ کے بڑے حصوں پر قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان کی تصدیق سامنے آئی ہے، جس سے سعودی اتحاد اور علیحدگی پسند گروپ کے درمیان تناؤ میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ حضرموت کے شہر سیئون میں ہوائی اڈے اور ایک فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم، ان حملوں کے حوالے سے سعودی اتحاد کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل کا دو سالہ منصوبہ اور نئے آئین کی تیاری یمن کی وحدت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہے، جبکہ خطے میں جاری جنگ اور بیرونی مداخلت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
