پاکستان کی معروف اور سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنے نام اور تصاویر کے غلط استعمال پر شدید غصے اور پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے سامنے آ گئی ہیں۔ مسلسل جعلی اکاؤنٹس بننے اور ان کے ذریعے لوگوں سے پیسے مانگنے کے واقعات نے انہیں اس حد تک تنگ کر دیا کہ انہوں نے انسٹاگرام پر نہ صرف ایک تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کیا بلکہ عوام کو کھلی اور سخت وارننگ بھی دی کہ ایسے کسی بھی اکاؤنٹ کے جھانسے میں نہ آئیں جو ان کے نام سے چلایا جا رہا ہو۔
اس معاملے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب بشریٰ انصاری نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ کچھ عناصر ان کی جعلی آئی ڈیز بنا کر نہایت ڈھٹائی سے لوگوں سے بھیک اور چندہ مانگ رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے ایک دو ٹوک پیغام بھی تحریر کیا کہ سوشل میڈیا پر موجود یہ بھکاری ان کے نام اور شناخت کا سہارا لے رہے ہیں، اس لیے کوئی بھی شخص ایسے اکاؤنٹس کو فالو نہ کرے اور نہ ہی ان پر اعتبار کرے۔
ویڈیو پیغام میں بشریٰ انصاری کا لہجہ سخت، جذباتی اور بھرپور غصے سے لبریز تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نام سے بنائے گئے کئی جعلی اکاؤنٹس انسٹاگرام سے ان کی تصاویر چرا کر استعمال کر رہے ہیں اور ان تصاویر کے ذریعے مختلف قسم کی جذباتی کہانیاں گھڑ کر لوگوں سے پیسے بٹورنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ جعلی صفحات یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جمعرات کا دن غریبوں کی مدد کے لیے مخصوص ہے، جبکہ کچھ اکاؤنٹس یہ جھوٹا مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ وہ بیواؤں اور نادار افراد کے لیے ایک فلاحی تنظیم یا این جی او قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے ان حرکتوں پر شدید افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں بے شرم اور بے غیرت لوگوں کی کوئی کمی نہیں، جو کسی کی عزت، نام اور شناخت کا خیال کیے بغیر دھوکہ دہی سے باز نہیں آتے۔ بشریٰ انصاری کے مطابق یہ لوگ نہ صرف عوام کے جذبات سے کھیل رہے ہیں بلکہ ان کے نام کو بدنام کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
اسی ویڈیو میں انہوں نے ایک تازہ ترین جعلی اکاؤنٹ کی نشاندہی بھی کی، جس میں ان کی حال ہی میں پوسٹ کی گئی ایک نئی تصویر استعمال کی گئی تھی۔ اس تصویر میں وہ پیشانی پر بندی لگائے نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس تصویر کو اپ لوڈ کیے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ کسی نے فوراً اسی تصویر کے ساتھ ایک نیا جعلی اکاؤنٹ بنا لیا اور لوگوں سے پیسے مانگنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ عوام ایسے دھوکوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی صورت میں ان اکاؤنٹس پر یقین نہ کریں۔
بشریٰ انصاری نے ویڈیو میں یہ بھی یاد دلایا کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد بار سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا کر لوگوں کو خبردار کر چکی ہیں کہ ان کے نام سے بننے والی جعلی آئی ڈیز کو فالو نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ جانے یہ لوگ کس طرح ان کی ذاتی تصاویر تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، انہیں سوشل میڈیا سے اٹھاتے ہیں اور پھر انہی تصاویر کو استعمال کر کے دوسروں سے پیسے مانگتے ہیں۔
اداکارہ کے مطابق وہ ان جعلی اکاؤنٹس کو بار بار رپورٹ کرتی ہیں، انہیں بلاک بھی کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ جیسے ہی ایک اکاؤنٹ بند ہوتا ہے، فوراً اس کی جگہ کوئی نیا جعلی صفحہ سامنے آ جاتا ہے۔ اس مسلسل ذہنی اذیت نے انہیں بے حد پریشان کر دیا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے نام پر کسی بھی شخص کے ساتھ دھوکہ ہو یا کسی کا نقصان ہو۔
بشریٰ انصاری نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ اگر وہ کبھی کسی کی مدد کرتی ہیں تو وہ اسے خفیہ رکھتی ہیں اور اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتیں۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی سے ادھار نہیں لیا اور نہ ہی سوشل میڈیا کے ذریعے کسی سے مالی مدد مانگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں ان کے نام سے پیسے مانگے جا رہے ہیں تو وہ یقیناً جھوٹ اور فراڈ ہے۔
کسی بھی قسم کے ابہام یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے بشریٰ انصاری نے اپنے اصل اور مستند سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل بھی عوام کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے بتایا کہ انسٹاگرام پر ان کا واحد آفیشل اکاؤنٹ ansari.bushra کے نام سے ہے۔ اس کے علاوہ فیس بک پر ان کا ایک اکاؤنٹ Bushra Bashir کے نام سے موجود ہے، جبکہ ایک اور فیس بک پروفائل بھی ہے جس میں وہ اپنے مشہور کردار صائمہ چوہدری کے روپ میں تانگے پر بیٹھی نظر آتی ہیں۔
آخر میں بشریٰ انصاری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر جذبات میں آ کر کسی کو پیسے نہ دیں، خاص طور پر جب کوئی مشہور شخصیت کے نام سے مدد کی اپیل کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں تصدیق کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ دھوکہ دینے والے لوگوں کی کمی نہیں۔ ان کے مطابق اگر عوام ذرا سی احتیاط کریں تو ایسے جعلسازوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے اور بے گناہ لوگوں کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔
