سعودی عرب کی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ یکم فروری 2026 سے عالمی سطح کے تمام غیرملکی سرمایہ کار سعودی سٹاک مارکیٹ میں براہِ راست سرمایہ کاری کر سکیں گے، جس کا مقصد مارکیٹ کو مزید متنوع اور لیکوئڈ بنانا ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق، اتھارٹی کے بورڈ نے ریگولیٹری تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد دنیا بھر کے سرمایہ کار سعودی مارکیٹ میں شامل ہو سکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد مین مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے والے افراد کے دائرے کو وسعت دینا ہے، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے بلکہ مارکیٹ کی مجموعی لیکویڈیٹی میں بھی اضافہ ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال 2025 کی تیسری سہ ماہی تک سعودی سٹاک مارکیٹ میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کی مالیت 590 ارب ریال تک پہنچ گئی تھی، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس ریگولیٹری تبدیلی کے بعد سرمایہ کاری میں مزید تیزی آئے گی۔
یہ فیصلہ جولائی 2025 میں اتھارٹی کی جانب سے سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے اعلان کا تسلسل ہے، جس میں مختلف زمروں کے سرمایہ کار شامل تھے، جن میں خلیجی ممالک میں مقیم افراد اور وہ غیرملکی شامل تھے جو ماضی میں سعودی عرب میں مقیم رہے تھے۔ اکتوبر 2025 میں اتھارٹی نے غیر مقیم غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حوالے سے سروے بھی کیا تھا تاکہ مارکیٹ میں شمولیت کے قانونی اور ریگولیٹری پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے سعودی سٹاک مارکیٹ عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بن جائے گی اور مملکت کے مالیاتی شعبے میں شفافیت اور اعتماد بڑھانے میں مدد ملے گی۔
