امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل پر اختیار حاصل کرنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔
رپورٹ کے مطابق نیویارک کی عدالت میں وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور مقدمے کا سامنا کرنے کے بعد امریکی صدر نے ایک غیرمعمولی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا اب امریکا کو 3 کروڑ سے 5 کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرے گا، جبکہ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں براہِ راست سرمایہ کاری کریں گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں وینزویلا کی تیل کی صنعت میں شامل ہو کر عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔ ان کے مطابق تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم امریکی صدر کے کنٹرول میں رہے گی تاکہ اسے دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ خام تیل براہِ راست امریکی بندرگاہوں تک منتقل کیا جائے گا، جس سے سپلائی چین میں تیزی آئے گی۔
امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا اور خام تیل کی قیمت میں 1.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین مستقبل میں مزید کمی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا کے ذخیرہ شدہ تیل کی مجموعی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، اور اگر یہ تیل عالمی مارکیٹ میں بڑی مقدار میں آ گیا تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم بدانتظامی، کرپشن اور سرمایہ کاری کی کمی کے باعث اس کی تیل پیداوار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 25 سال قبل وینزویلا کی تیل پیداوار 35 لاکھ بیرل یومیہ تھی، جو اب کم ہو کر 10 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے، جو عالمی تیل پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
توانائی کنسلٹنسی کمپنی رسٹاڈ انرجی کے مطابق وینزویلا کی تیل کی صنعت کو ماضی کی سطح پر بحال کرنے کے لیے کم از کم 15 سال اور تقریباً 185 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی، جو ایک طویل اور پیچیدہ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
